فهرس الكتاب
کے درمیان کسی واسطہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور بہت مہربان ہیں۔
پھرجب ہم نے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے افعال اور صفات کے متعلق کچھ جان لیا تو اب یہاں پر ایک عظیم الشان قاعدہ ہے۔جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اور مخلوق کے ما بین کوئی مشابہت و مماثلت نہیں ہے؛ باوجود اس کے کہ بعض ناموں اور صفات میں [نام کے حد تک ] مماثلت پائی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات کے متعلق فرماتے ہیں:
{ لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْئٌ وَہُوَ السَّمِیْعُ البَصِیْرُ } [الشوری 11]
'' اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے۔''
ایسے ہی مخلوقات کے متعلق بھی اللہ سبحانہ و تعالیٰ ایسی صفات کا ذکر کیا ہے کہ وہ بھی سمیع اور بصیر ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
{ فَجَعَلْنَاہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا } [الانسان 2]
'' سو ہم نے اسے سننے والا، دیکھنے والا بنا دیا۔''
اس طرح کے دوسرے اسماء بھی پائے جاتے ہیں۔ لیکن ان میں فرق کا قاعدہ یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سمع و بصارت اور چیز ہے ؛وہ مخلوق کی سماعت و بصارت کی طرح نہیں ہے اور مخلوق کی سمع و بصارت علیحدہ چیز ہے۔ اوریہی قاعدہ باقی اسماء و صفات کے متعلق بھی ہے [اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی سماعت وبصارت ایسے ہی ہے جیسے اس کی شان و جلال کے لائق ہے] ۔
قرآن کریم نے بیان کیا ہے کہ کائنات میں کچھ غیبی مخلوقات بھی ہیں جنہیں ہم نہیں دیکھ سکتے؛ مگر وہ موجود ہیں۔ ان مخلوقات میں سے:
ملائکہ: یہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں؛انسان ان کی گنتی بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اوراللہ سبحانہ و تعالیٰ نے یہ بھی بتایاہے کہ اس نے انہیں نور سے پیدا کیا ہے؛اوریہ اس کی چنیدہ و پسندیدہ مخلوق ہیں۔اور ان میں سے ہر ایک کی اپنی ذمہ داری ہے