فهرس الكتاب

الصفحة 325 من 337

موت اور حیات میں واضح فرق بتادیاہے۔

''کنت رجاء نا''کامطلب یہ ہوا جب آپ زندہ تھے تو لوگ اپنے مسائل آپ کے پاس لے کر پہنچتے تھے 'اور آپ وحی الٰہی کی روشنی میں ان کے دنیاوی اور دینی مسائل حل کردیا کرتے تھے۔یہ مسائل تعلیم وتبلیغ اور رشد وہدایت سے متعلق ہوا کرتے تھے 'ورنہ رزق اور مصائب کا ٹالنا وغیرہ تو سب اﷲکے ہاتھ میں ہے 'اور ان میں کسی کو دخل نہیں۔

ان تفصیلات سے واضح ہوگیا کہ اس روایت کا جو متن شیخ دحلان نے پیش کیا ہے وہ بالکل محرف ہے اور ایسا قصدًا کیا گیا ہے اور ایسا جان بوجھ کر یہ تبدیلی کی گئی ہے تاکہ مخلوقات کے وسیلہ کا جواز مل جائے۔افسوس!

اس روایت کی سند پر بحث:

یہ روایت منقطع ہے 'اس لئے اس کی سند میں عروہ بن زبیر ہیں جن کی ولادت ۲۹ھ میں ہوئی یعنی آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کی وفات کے ۱۹سال بعد 'اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا مرثیہ آپ کی وفات کے فورًا بعد ہی کا ہے۔یعنی عرو بن زبیر اس قصیدہ کو لکھنے کے ۱۹سال بعد پیدا ہوئے اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا ۲۰ ھ میں وفات پاگئیں 'یعنی عروہ بن زبیر کی پیدائش سے ۹ سال پہلے۔اس طرح عروہ بن زبیر نے اپنی دادی صفیہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ پایا ہی نہیں۔اس لئے حضرت صفیہ رضی اﷲعنہا سے ان کی روایت منقطع ہوگئی۔اس طرح یہ روایت متن کے اعتبار سے محرف اور سند کے اعتبار سے منقطع ہے 'لہٰذا کسی طرح بھی حجت ولیل کے قابل نہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت