نہ ہی یہ اصول ہمیں ایمان کے شعبے کو ایمان اور نفاق کے شعبے کو نفاق اور کفر کے شعبے کو کفر کہنے سے روکتا ہے حالانکہ اس پر فعل کا اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ آپ کا فرمان ہے: ''جس نے نماز ترک کی یقینا اس نے کفر کیا۔'' اور ''جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی تو یقینا اس نے کفر کیا۔'' اور آپ کا فرمان ''جو کسی کاہن کے پاس آیا اور اس کے قول کی تصدیق کی تو یقینا اس نے کفر کیا۔''
کسی ایک شعبہ کو پکڑنے سے انسان مومن نہیں بنتا اسی طرح کسی ایک کفریہ شعبہ کے ارتکاب سے انسان کافر نہیں ہو جاتا۔