فهرس الكتاب

الصفحة 297 من 331

ان دونوں جملوں کو غیر اللہ کے لئے استعمال کرنے سے شرکت لفظی پائی جاتی ہے لہٰذا اللہ کریم کی عظمت و جلالت،اس کے ادب و احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور شرک سے بعد و اجتناب کی خاطر اور توحید میں پختگی کے پیش نظر ان الفاظ کو استعمال کرنے سے منع فرما دیا گیا ہے۔اور فرمایا کہ:ان الفاظ کی بجائے:فَتَایَ فَتَاتِیْ اور غُلَامِیْ جیسے الفاظ استعمال کر لیا کرو۔یہ سب کچھ اس لئے بیان کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کے اہم مضمون کو انتہائی مضبوط اور مستحکم دلائل سے واضح فرمایا ہے۔پس رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر وہ بات صاف الفاظ میں بیان فرمائی جس میں اُمت کی خیرخواہی اور بھلائی مضمر تھی اور ہر اُس عمل سے منع فرمایا جس سے ایک مسلمان کے دین میں نقص پڑ جانے کا خطرہ ہے۔پس ہر بھلائی کی طرف راہنمائی فرمائی خصوصًا توحید کی طرف نیز ہر شر سے آگاہ فرمایا خصوصًا اس سے جو لفظی طور سے شرک کے قریب لے جائے۔اگرچہ اس کا دِلی مقصد شرک کرنا نہ بھی ہو۔

فیہ مسائل

٭سب سے اہم بات جو اس باب میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ توحید میں پختگی اور نکھار انتہائی لازمی ہے اگرچہ اس کا تعلق صرف الفاظ سے ہی ہو۔

بابُ:

لا یرد من سال باللّٰه

اس باب میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا نام لے کر سوال کرتا ہے۔اس کو خالی ہاتھ واپس نہ لوٹایا جائے

عن ابن عمر رضی اللّٰه عنہ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه مَنْ سَاَلَ بِاللّٰه فَاَعْطُوْہُ وَ مَنِ اسْتَعَاذَ بِاللّٰه فَاعِیْذُوْہُ وَ مَنْ دَعَاکُمْ فَاَجِیْبُوْہُ فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا مَا تُکَافِؤنَہٗ فَادْعُوْا لَہٗ حَتّٰی تُرَوْا اَنَّکُمْ قَدْ کَافَاْتُمُوْہُ (رواہ ابوداؤد،والنسائی بسند صحیح) ۔

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا نام لے کر مانگے اُسے دو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت