فهرس الكتاب

الصفحة 242 من 305

نہیں ہے، مثلًا کسی کے ہاں نمک ختم ہوگیا، حدیث کی رو سے کہ اگر جوتے کا تسمہ تک بھی ٹوٹ جائے، تو وہ براہ راست اﷲ تعالیٰ سے مانگنا چاہیے، [1] اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو چیزیں انسانوں کی بساط میں ہوں، ان کے بارے میں بھی یہ خیال ہونا چاہیے کہ جب تک اﷲ تعالیٰ کی جناب سے تحریک نہیں ہوگی، اسے یہ چیز نہیں ملے گی۔

عبادت کی اس تعریف میں طاعت بھی داخل ہوگئی، مثلًا کسی کے حکم کی یہ سمجھ کر تعمیل کرنا کہ یہ حکم شرعی ہے اور اسے حکم دینے کے اختیارات ہیں، اس صورت میں یہ بھی شرک میں شامل ہوجائے گی۔ { اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ } [یوسف: 40] کیونکہ حکم تشریعی اور حکم تکوینی صرف اﷲ کا حق ہے، کسی کے حکم کو ان دو احکام الہٰی کی طرح سمجھے، تو یہ شرک کی واضح شکل بن جاتی ہے، اگر یہ دو چیزیں نہیں سمجھتا، مثلًا اس کا باپ ہے، اس کا استاد ہے، بڑا بھائی ہے، ان میں سے کوئی اسے کسی کام کے انجام دینے کا حکم دے رہا ہے اور وہ اسے انجام دیتا ہے، تو یہ تعمیل حکم اور اطاعت بمنزل احترام اور تعظیم کے ہے۔

تعظیم کی تین اقسام:

تعظیم اور احترام کی بھی تین اقسام ہیں، ان میں سے ایک تو جائز ہے، ایک وہ ہے جو شرک ہے اور اور ایک ایسی قسم ہے جو شرک نہیں ممنوع ضرور ہے:

1۔ تعظیم و احترام کی جائز صورت تو یہ ہے کہ کسی نے پینے یا کسی اور ضرورت کے لیے پانی طلب کیا۔ قابل احترام اور بڑا سمجھتے ہوئے اس کے حکم کی تعمیل میں اسے پانی لا دیا، یا کسی نے کہا کہ مجھے کمر میں یا کندھوں میں درد ہو رہا ہے، ذرا

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت