فهرس الكتاب

الصفحة 150 من 392

البتہ طبرانی کبیر (ج ۱۰ ص۱۶۳ رقم ۱۰۲۱۱ ، الاوسط(ج۴ ص ۲۸۹ ، رقم ۳۵۱۲) اور مجمع البحرین (ج ۶ ص ۹۶) میں حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ان دونوں سورتوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے تو میں یہ پڑھتا ہوں تم بھی پڑھو ، جس طرح میں پڑھتا ہوں۔ مگر یہ روایت سندًا صحیح نہیں۔ اسماعیل بن مسلم المکی اس میں ضعیف ہے۔ (تقریب ص ۴۹) علامہ ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی مجمع الزوائد (ج ۷ ص ۱۵۰) میں فرمایا ہے کہ اس میں اسماعیل ضعیف ہے اس کا ایک اور راوی محمد بن مرداس ہے جسے امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے مجہول کہا ہے اور صرف ابن حبان رحمہ اللہ نے ہی اس کو ثقات میں ذکر کیا ہے۔ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اسی روایت کے بارے میں لکھتے ہیں:

ووقع عند الطبرانی فی الأوسط ان ابن مسعود أیضًا قال مثل ذلک لکن المشھور انہ من قول ابی بن کعب فلعلہ انقلب علی راویہ۔'' (فتح الباری ج ۸ ص ۷۴۳)

''اور طبرانی اوسط میں ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح فرمایا لیکن مشہور یہ ہے کہ یہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ شاید راوی پر یہ قلب ہوا ہے۔ ''یہ تبدیلی غالبًا اسی اسماعیل بن مسلم المکی سے ہوئی جو ضعیف ہے۔ لہٰذا صحیح یہی ہے کہ اس نوعیت کا سوال حضرت ابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں۔امام طبرانی نے بھی وضاحۃً فرمایا ہے کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صرف اسی سند سے یہ مروی ہے جب کہ لوگ زربن حبیش سے یہ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس لیے یہاں حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر بالکل غلط ہے۔

الدرالمنثور میں طباعتی غلطی اور پیرکرم شاہ صاحب کی غلط فہمی

بات چل نکلی ہے تو یہ بھی ملاحظہ فرما لیجیے کہ علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:

اخرج الطبرانی فی الأوسط بسند حسن عن ابن مسعود عن النبی صلي اللّٰه عليه وسلم قال لقد أنزل علی اٰیات لم ینزل علی مثلھن المعوذتین۔ (الدر المنثور: ج ۶ ص ۴۱۶)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت