الصفحة 37 من 175

نماز سے پہلے طہارت اور پاکیزگی ہے جسے نصف ایمان قرار دیا گیا ہے: (( اَلطَّھُوْرُ شَطْرُ الْإِیْمَانِ ) ) [1] اسی کے بارے میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( وَاعْلَمُوْا أَنَّ خَیْرَ أَعْمَالِکُمْ الصَّلَاۃُ، وَلَا یُحَافِظُ عَلَی الْوُضُوْئِ إِلَّا مُؤْمِنٌ ) ) [2]

''خوب جان لو کہ تمھارا بہترین عمل نماز ہے اور وضو پر مداومت و محافظت مومن ہی کرتا ہے۔''

وضو ٹوٹ جائے تو مومن پاک صاف رہنے کے لیے وضو کرتا ہے۔ پھر وضو کے ٹوٹنے کا علم اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو ہے یا مومن کو ہے۔ اس لیے اس کا وضو کر لینا اس کے ایمان کی دلیل ہے۔

قسموں کی حفاظت:

نماز کے ساتھ ساتھ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قسموں کی حفاظت اور ان کی پاس داری کا بھی حکم دیا ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا:

{وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ } [المائدۃ: ۸۹]

''اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔''

''أیمان'' یمین کی جمع ہے جس کے معنی ہیں: قسم یا معاہدہ۔ ''یمین'' کے اصل معنی تو دایاں ہاتھ ہے۔ اہلِ عرب چونکہ قسم کھاتے ہوئے یا عہد و پیمان کرتے ہوئے اپنا دایاں ہاتھ دوسرے کے دائیں ہاتھ پر مارتے تھے، اس لیے استعارے کے طور پر لفظ ''یمین'' قسم کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ [3]

[2] ابن ماجہ (۲۷۷) حاکم (۱/ ۱۳۰) دارمي (۱/ ۱۳۳) أحمد (۵/ ۲۸۲) وغیرہم.

[3] مفردات.

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت