حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا یونس علیہ السلام نے جب مچھلی کے پیٹ میں اللہ کی تسبیح {لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ } پڑھی تو فرشتوں نے اللہ تبارک و تعالیٰ سے عرض کی: بارالٰہا! تسبیح کی یہ مانوس آواز ہم بڑی اجنبی جگہ سے سن رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا تم اسے نہیں جانتے؟ انھوں نے عرض کیا: وہ کون ہیں؟ فرمایا: یہ میرا بندہ یونس ہے۔ فرشتوں نے کہا: تیرا بندہ یونس جس کے ہمیشہ مقبول اعمال اوپر آتے اور دعائیں قبول ہوتی تھیں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں، انھوں نے عرض کیا: جو کچھ وہ آسانیوں میں کرتا تھا اس کی بنا پر آپ اس پر رحمت کیوں نہیں
کرتے اور مصیبت سے نجات کیوں نہیں دیتے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ہاں میں اسے نجات دیتا ہوں۔ چنانچہ مچھلی کو حکم دیا تو اس نے حضرت یونس کو میدان پر ڈال دیا۔ [1]
مگر اس کی سند میں یزید بن ابان الرقاشی ہے جو ضعیف ہے۔ [2]
جامع ترمذی میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( مَنْ سَرَّہُ أَنْ یَّسْتَجِیْبَ اللّٰہُ لَہُ عِنْدَ الشَّدَائِدِ، فَلْیُکْثِرِ الدُّعَائَ فِيْ الرَّخَآئٓ ) ) [3]
''جو چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشکلات میں اس کی دعا قبول کرے اسے چاہیے کہ خوش حالی میں بہ کثرت دعا کیا کرے۔''
اس لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ کو آسودگیوں میں یاد رکھنا اور اس کی نعمتوں کا شکر کرتے رہنا جہاں اللہ تعالیٰ کی مزید عنایتوں کا باعث ہے وہاں شدائد و محن میں مدد و نصرت کا بھی سبب ہے۔
بلکہ مومن اور مشرک میں فرق ہی یہ ہے کہ شجر طیبہ کی طرح مومن سدابہار ہوتا
[2] تقریب (ص: ۳۸۱) .
[3] ترمذي (۳۳۸۲) وحسنہ وغیرہ۔ الصحیحۃ (۵۹۳) .