فهرس الكتاب

الصفحة 122 من 543

پڑھ اپنے اس رب کے نام سے جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا۔ پڑھ اور تیرا رب وہ بے پناہ صاحب جود و بخشش ہے جس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا اور انسان کو ان چیزوں کا علم بخشا جنھیں وہ نہیں جانتا تھا۔''

یہ حدیث ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سارا واقعہ سن کر اپنے اسلوب میں بیان کی ہے، جیسا کہ انداز بیان گواہی دے رہا ہے، اور سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیتیں ، حدیث کے ساتھ اس قدر ہم آہنگ ہیں کہ ایک ہی واقعہ کا طبعی تسلسل معلوم ہوتی ہیں ۔ جس کا انکار مولانا امین احسن اصلاحی جیسے مفسر قرآن کو زیب نہیں دیتا جو قرآن کی آیتوں اور سورتوں کے درمیان نظم کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں اور اس نظم کو ثابت کرنے کے لیے بسا اوقات ناقابل قبول تکلّفات سے بھی گریز نہیں کرتے۔

(۳)ما أنا بقاریٔ کا مطلب:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبریل علیہ السلام کی طلب پر مسلسل تین بار یہ فرمانا: ''ما أنا بقاریما أنا بقاریأنا أمی'' میں امی ہوں فرمادیا اور عربی زبان میں ''أمی'' اس شخص کو کہتے ہیں جو پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو۔ [1]

اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنا جانتے تو جبریل علیہ السلام کی طلب: ''اقرأ'' کے جواب میں فرماتے: ''ماذا أقرأ'' کیا پڑھوں ؟ اس کے برعکس آپ نے ''ما أنا بقاریاصلاحی صاحب نے آغاز وحی کی حدیث میں سورۂ علق کی ابتدائی پانچ آیتوں کی عدم شمولیت کے دعوی کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ''ما أنا بقاریما أنا بقاری (۴) قدیم آسمانی صحیفوں سے بے محل استدلال:

اصلاحی صاحب نے اسی پر بس نہیں کیا، بلکہ جبریل علیہ السلام کی آمد کی اپنی خود ساختہ توجیہہ: یہ آپ کو منصب رسالت پر فائز کرنے کی اطلاع تھی'' کو درست ثابت کرنے کے لیے قدیم آسمانی صحیفوں سے بے محل استدلال سے بھی باز نہ آئے اور یہ دعویٰ کر بیٹھے کہ ''اس قول میں اشارہ سابق صحیفوں کی اس پیشینگوئی کی طرف بھی تھا کہ جب آخری نبی آئے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت