فهرس الكتاب

الصفحة 211 من 224

باب نہم:

شرعی امور''نبی و خلیفہ'' کے

''سلطنت و اقتدار کے حامل ہونے'' کا طریقہ کار

گزشتہ صفحات میں ، کتاب و سنت سے کسی شخص کے نبی اور لوگوں کے اصولی حکمران قرار پانے کی بنا اور سبب کا مطالعہ کیا گیا ہے، ذیل میں کتاب و سنت سے یہ دیکھا جائے گا کہ نبی کے سلطنت و اقتدار کے حامل ہونے کا کیا طریق کار ہے؟

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اہلِ ایمان کی بیعت، اطاعت اور

نصرت میسر آنے سے سلطنت و اقتدار کے حامل ہوئے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم اﷲکے مقرر کردہ نشانیوں کی بنا ء پر اﷲکے نبی تھے اور اس بنا پر اصولًا تمام جن و انس کے حکمران اور تمام روئے زمین کے اقتدار کے حقدار تھے، مگر اپنی بعثت کے ساڑھے تیرہ سال بعد تک روئے زمین کے کسی حصے پر اقتدار کے ''عملًا حامل'' نہ ہو سکے تھے، آخر کار اﷲکی طرف سے آپ کو مومنین کی نصرت میسر آئی جس کے ذریعے سے شروع میں آپ مدینہ کی چھوٹی سی ریاست پر عملًا مقتدر ہوئے پھر مومنین کی نصرت ہی کی بنا پر قتال کے قابل ہوئے اور اس نصرت کے ذریعے سے اس چھوٹی سی ریاست کو وسعت دینے کے قابل ہوئے۔

مدینہ کے اہلِ ایمان کی جس نصرت کی بنا پر آپ مدینہ پر مقتدر بنے اس کا بیان وسعت عقبہ ثانیہ کے حوالے سے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا:۔

[یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ عَلَامَ نُبَایُعِکَ قَالَ تُبَایِعُوْنِی عَلَی السَّمْعِ وَالطَّاعَۃِ فِی النَّشَاطِ وَالْکَسَلِ وَعَلَی النَّنَفَقَۃِ فِی الْعُسْرِ وَالْیُسْرِ وَعَلَی الْاَمْرِ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت