فهرس الكتاب

الصفحة 219 من 224

لیا جاتا ہے۔

بیعت سے پہلے کسی علاقے پر عملًا مقتدر ہونے کی شرط

بعض لوگ یہ شرط پیش کرتے ہیں کہ جس شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنی ہو اس کا بیعت سے پہلے کسی علاقے پر عملًا مقتدر ہونا لازمی ہے۔

بیعتِ عقبہ ثانیہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت ہوئی آپ اصولًا تو پوری دنیا کے مقتدر تھے مگر عملًا کسی علاقے پر مقتدر نہ تھے بلکہ یہ بیعت تو تھی ہی آپ کی اطاعت، حفاظت اور نصرت کی بیعت (پڑھئے بیعتِ عقبہ ثانیہ صفحہ:238) اور اقتدار ارضی تو اس بیعت کے نتیجے میں آپ کو سپرد ہوا تھا نہ کہ بیعت سے پہلے آپ اقتدارِ ارضی کے حامل تھے اسی طرح جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت ہوئی تھی تو اس بیعت سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ ذاتی طور پر کسی علاقے پر مقتدر نہ تھے مگر عمر رضی اللہ عنہ کے آپ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہی آپ امت میں پہلی بیعت کے حامل ہو گئے اور اس بنا پر ''امت کے خلیفہ، امام، امیر و سلطان قرار پا گئے'' اور ''اہل ایمان کی وفاداری اور ان کی سلطنت و اقتدارِ ارضی کے حقدار'' ہو گئے اور پھر ایک اہل ایمان عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت سے خلیفہ قرار پانے والے ابوبکر رضی اللہ عنہ بقیہ اہل ایمان کی وفاداری (بیعت اطاعت و نصرت) نبھانے سے ''عملًا'' سلطان و مقتدر بن گئے۔

نصرت کرنے والوں کیلئے مقتدر ہونے کی شرط

بعض لوگ یہ شرط پیش کرتے ہیں کہ جن لوگوں نے نصرت کرنی ہو اور اس کیلئے بیعت کرنی ہو تو ان کا صاحبِ اختیار و اقتدار ہونا لازم ہے کیونکہ ان کے پاس اقتدار ہو گا اور وہ ان کی نصرت کے ذریعے پہلی بیعت کے حامل کو منتقل ہو گا تو وہ مقتدر ہو گا جبکہ کتاب و سنت سے کچھ اور ہی ثابت ہوتا ہے مثلًا:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت