فهرس الكتاب

الصفحة 23 من 75

حضرت محدّث گوندلوی حفظہ اللہ نے متعدد مقامات میں واقع ہونے والی تحریف کی نشاندہی کی ہے چنانچہ موصوف لکھتے ہیں:

'' ان بڑے بڑے علماء کی تصریحات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ابو داؤد کا قول ضرور ہے ، باقی جو بعض نسخوں میں موجود نہیں تو ممکن ہے کہ مانعین میں سے کسی بزرگ کا تصرّف ہو ،قارئین ہماری اس بات پرمتعجب نہ ہوں کیونکہ ان لوگوں کا یہ قدیمی طریق ِعمل ہے '' ۔

1 ابن ماجہ جو فاروقی مطبع میں طبع ہوئی تھی ،بتصحیح مولوی فخر الحسن ؒصاحب ،اسکی جلد اول (ص:۶۱) میں حدیث: [ مَنْ کَانَ لَہٗ اِمَامٌ فَقِرَائَ ۃُ الْاِمَامِ قِرَائَ ۃٌ لَہ 2 مولوی محمود الحسنؒ صاحب کی تصحیح سے جو ابوداؤد مجتبائی میں طبع ہوئی ہے ، اسمیں باب: [مَنْ کَرِہَ الْقِرَائَ ۃَ بِفَاتِحَۃٍ اِذَاجَہَرَالْاِمَامُ] بڑھا دیا گیا ہے جو دیگر قلمی یا مطبوعہ نسخوں میں نہیں ہے ۔

3 حافظ ابن حجرؒ و غیرہ نے حاکم کے حوالہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ نبی ٔ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین رکعت وتر پڑھاکرتے:

(( وَلَمْ یَقْعُدْ اِلَّا فِيْ آخِرِھِنَّ ) ) [1]

''اور صرف ان کے آخر میں ایک ہی قعدہ فرماتے۔''

علّامہ ذہبی نے بھی تلخیص المستدرک میں اس روایت کو حاکم سے نقل کیا ہے لیکن حیدر آباد کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت