فهرس الكتاب

الصفحة 65 من 75

''یہ قصہ کتب ِحدیث میں تو کیا ، دوسری کتب ِ فقہ میں بھی نہیں ہے۔''

قرآنِ کریم کی آیات میں تغیّر و تبدّل اور کمی بیشی :

اللہ تعالیٰ نے قرآن ِکریم میں اسکی حفاظت کی خود ذمہ داری لیتے ہوئے فرمایا ہے:

{اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَوَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ علیہم السلام } (الحجر: ۹)

''اس قرآن ِکریم کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اسکے محافظ ہیں '' ۔

یہی وجہ ہے کہ کتاب ِالہٰی ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کے دماغوں اور سینوں میں اسطرح محفوظ ہے کہ اسے کَالنَّقْشِ فِي الْحَجر بنادیا ہے، لہٰذا یہ تو کسی کے لیٔے ممکن نہیں کہ وہ کتاب اللہ میں کوئی ہیر پھیر یا کمی بیشی کر سکے اور وہ چُھپی بھی رہے ، ہاں بعض کتب میں سہوًا اور بعض دوسری کتب میں سہوًا یا عمدًا چاہے کسی بھی شکل میں کسی آیت میں کوئی تبدیلی کی گئی تو وہ پکڑی گئی جس کی بعض مثالیں تو ذکرکی جاچکی ہیں دیکھیٔے عنوان ''کتاب اللہ میں تحریف واضافہ۔'' [1]

اسی طرح بعض دیگر بھی ہیں چنانچہ:

1 شیخ مرغینانی ؒنے فقہ حنفی کی نامور و معتبر کتاب الہدایہ کی [کِتَابُ الصَّلـٰوۃِ، بَابُ صِفَۃِ الصَّلـٰوۃِ] میں {ارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا} [الحج: ۷۷] کی بجائے (وَارْکَعُوْا وَاسْجُدُوْا) لکھ دیا یعنی شروع میں واؤ زیادہ ڈال دی ، اب ظاہر ہے کہ موصوف سے تو سہوًا ایسا ہو گیا۔ [2]

بعد والے لوگوں میں سے کسی کو چاہیئے تھا کہ وہ اس زائد واؤ کو کتاب سے خارج کردیتا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، ایک طویل عرصہ کے بعد علّا مہ عبد الحیٔ لکھنوی ؒنے ہمت کرکے مقدمہ ہدایہ میں یہ آواز اٹھائی کہ مصنف ِ ہدایہ سے سہوًا یہ واؤ لکھی گئی ہے ،لیکن کتاب سے اس واؤ

[2] ہدایہ ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت