میں ہی بین السطوران الفاظ کے نیچے لکھ دیا ہے:
( ہٰذا لَمْ یُرْوَ فِيْ کِتَابٍ مِّنَ الْحَدِیْثِ ) [1]
''یہ الفاظ حدیث کی کسی کتاب میں نہیں ہیں۔''
2 ہدایہ ہی کی کِتَابُ الْحَجِّ ، [ بَابُ الْحَجِّ عَنِ الْغَیْرِ ] میں خثعمیہ رضی اللہ عنہا کی مشہور حدیث ہے جسکے آخر میں ہے:
(( حُجِّيْ عَنْ أَبِیْکِ ) ) [2] ''اپنے باپ کی طرف سے حج کر لو ۔''
جبکہ ہدایہ میں ان الفاظ کے بعد: [وَاعْتَمِرِيْ] کا اضافہ بھی آ گیا ہے جوکہ صحیح نہیں اسی وجہ سے محشّی ہدایہ نے عینی شرح ہدایہ سے یہ الفاظ نقل کیٔے ہیں:
( وَفِيْ رِوَایَۃِ الْمُصَنِّفِ وَہْمٌ فَاِنَّ فِيْحَدِیْثِ الْخَثْعَمِیَّۃِ لَیْسَ ذِکْرُالْاِعْتِمَارِ ) [3]
''مصنف کی روایت میں و َہم پایا جاتا ہے کیونکہ خثعمیہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں عمرہ کاکوئی ذکر نہیں ہے ۔''
3 اسی طرح انہی اضافوں میں سے ہی ایک یہ بھی ہے کہ احناف چونکہ مسجد میں نمازِ جنازہ کو جائز نہیں سمجھتے لہٰذا صاحبِ ہدایہ نے کِتَابُ الْجَنَائِزِ [بَابُ الصَّلٰوۃِ عَلَی الْمَیِّتِ] میں لکھا ہے:
( لَا یُصَلَّی عَلـٰی مَیِّتٍ فِي الْمَسْجِدِ جَمَاعَۃً لِقَوْلِ النَّبِيِّ صلی اللّٰه علیہ وسلم:(( مَنْ صَلَّـٰی عَلـٰی جَنَازَۃٍ فِيْ الْمَسْجِدِ ) ) (فلَاَ أَجْرَلَہٗ ) [4]
''اہل ِعلم کی ایک جماعت مسجد میں نمازِجنازہ کی قائل نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے: ''جس نے مسجد میں کسی کی نماز ِجنازہ پڑھی، اسے اسکا کوئی
[2] ابن ماجہ بحوالہ الدرایہ ۱؍۲۹۹
[3] بحوالہ نتائج التقلید (ص:۱۳۵)
[4] ہدایہ ۱؍۱۸۱