فهرس الكتاب

الصفحة 108 من 640

ہونے اور قلم خشک ہو جانے کی بات بتائی تو بعض صحابہ کرام علیہم السلام نے کہا: (( أَفَلَا نَتَّکِلُ عَلَیٰ کِتَابِنَا وَنَدَعُ الْعَمَلَ؟ ) )''کیا ہم اپنی تقدیر پر بھروسا نہ کر لیں اور عمل ترک نہ کردیں؟'' تو آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے فرمایا: (( لَا، اِعْمَلُوْا فَکُلٌّ مُیَسَّرٌ لِمَا خُلِقَ لَہٗ ) )''نہیں! عمل کرتے جاؤ، کیونکہ ہر آدمی کے لیے اس کا عمل آسان کر دیا جاتا ہے۔'' پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت فرمائی:

{ فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی } [اللیل: ۵]

معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ نے تقدیریں بنائی ہیں اور اس کے لیے اسباب مہیا کیے ہیں، اس کا معاش و معاد کے لیے اسباب بنانا حکمت پر مبنی ہے، اس نے سب کے لیے وہ راستہ آسان کردیا ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ جب بندے کو یہ معلوم ہو جائے کہ اس کے آخرت کے مصالح اسباب کے تحت مر بوط ہیں، تو اسے کرنے اور بجا لانے میں سخت جدوجہد کرے گا، بلکہ اس سے بڑھ کر کر ے گا جو وہ اسبابِ معاش اور مصالحِ دنیا کے لیے اختیار کرتا ہے، اس نکتے کو اس صحابی نے اچھی طرح سمجھ لیا تھا جب انھوں نے تقدیر والی حدیث سنی تو یہ کہا:

(( مَا کُنْتُ أَشَدَّ اِجْتِہَادًا مِّنِّيْ الْآنَ ) )

''اب تو میں پہلے سے بھی زیادہ عمل میں محنت کروں گا۔''

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( اِحْرِصْ عَلَیٰ مَا یَنْفَعُکَ وَاسْتَعِنْ بِاللّٰہِ وَلَا تَعْجَزْ ) ) [1]

''تم اس امر کے حریص بنو جو تمھیں نفع دے، اللہ سے مدد مانگو اور تھک ہار کر بیٹھ نہ جاؤ۔''

صحابہ کرام علیہم السلام نے جب نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا کہ ''ہم جو علاج اور جھاڑ پھونک کراتے ہیں، کیا اس سے تقدیر پلٹ جاتی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

(( ھِيَ مِنْ قَدَرِ اللّٰہِ ) ) [2] ''یہ بھی تقدیر میں لکھا ہوا ہے۔''

یعنی اللہ تعالیٰ نے تقدیرِ خیر و شر بنائی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے لیے اسباب مہیا کر دیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت بہرحال نافذ ہو کر رہتی ہے۔ بس وہی کچھ ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے اور جو اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا

[2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۲۰۶۵، ۲۴۱۸) سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث (۳۴۳۷) مسند أحمد (۳- ۴۲۱)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت