اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی (تک) نہ محسوس کریں بلکہ سر بسر تسلیم کرلیں۔
جہاں تک آئین کی مشہور زمانہ دفعہ (227A) کاتعلق ہے جسکا حوالہ جمہوری اسلام پسند حضرات اکثر دیا کرتے ہیں یعنی:
''موجودہ قوانین کو کتاب و سنت کی تعلیمات کی مطابقت میں لایا جائیگا اور کوئی قانون ان تعلیمات کے خلاف نہ بنایا جائیگا''
تو اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس دفعہ کے آجانے کے بعد اسلام اب اس ملک میں دھرم نہیں رہا بلکہ دین کی حیثیت اختیار کر گیا ہے اور انسانوں کے بنائے ہوئے خلاف اسلام قوانین اب یہاں کوڑی کے نہیں رہے تو یہ آپ کی غلط فہمی ہے دستور میں ایسا سمجھنے کی کوئی گنجائش نہیں۔اور اگر آپ یہ رائے رکھنے پر بضد ہیں تو قرآن کاکوئی بھی ایسا ثابت اور قطعی حکم ایوانہائے عدل میں پیش کر دیکھئے جو وقت کے رائج قانون سے متصادم ہو آپ کو یہی جواب ملے گا کہ آپ صرف اپنی من پسند دفعات دیکھنے کے عادی ہیں پورا دستور نہیں پڑھتے ورنہ دستور میں جابجا قانون ساز مجالس کا ذکر دیکھتے تو قطعًا اس خوش فہمی کا شکار نہ ہوتے۔اور نہیں تو صرف دفعہ (1) 268دیکھ رکھی ہوتی تب بھی یہ شکایت نہ ہوسکتی تھی۔ذرا اس دفعہ کے الفاظ ملاحظہ فرمائیے اور پھر دیکھئے کہ دفعہ (227A) کا کیا مطلب رہ جاتا ہے۔
ترجمہ: بجز جیسا کہ اس آرٹیکل میں قرار دیاگیا ہے تمام موجودہ قوانین اس دستور کے تابع جس حد تک