فهرس الكتاب

الصفحة 28 من 83

ہے تو پاکستان کا جمہوری دستور ان سے بھرا پڑا ہے۔اس کے لئے کوئی ایک آدھ دفعہ نہیں بلکہ دستوری ابواب تک مختص ہیں خصوصًا:

یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ ان طاغوتوں کو جن امور میں قانون سازی کا حق حاصل ہے آئین کے Forth schedualمیں،legislative list خاص کر concurrent listکی رو سے ان میں صرف by lawsہی نہیں (جن کا نام لے کر مسلمانوں کو گمراہ کیاجاتا ہے کہ کیا ٹریفک قوانین بھی قرآن و حدیث سے لئے جائیں گے) بلکہ زندگی موت کے تمام معاملات پر مشتمل تعزیراتی،مالیاتی،سیاسی،اقتصادی،سماجی،تہذیبی،تعلیمی،اور بین الاقوامی قوانین سمیت سب ہی نظام آتے ہیں۔اور یہ ساری قانون سازی بلکہ دستور سازی اللہ کے نازل کردہ احکامات کی کسی بالا تر سند کی براہ راست پابند نہیں کہ آپ مقنّنہ (1) یعنی قانون ساز اسمبلیاں۔سے استفسار کر سکیں کہ یہ حکم آپ نے کس آیت یا حدیث سے لیا ہے ؟اگر قانون دان پورے دستور میں کسی ایسی بالاتر سند کی نشاندہی کر سکیں تو ہمارے علم میں اضافہ ہوگا۔

ملکی دستور میں عوامی نمائندوں کے یہ اختیارات دیکھ کر آپ بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ پاکستان کی

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت