فهرس الكتاب
رہے؟ انبیاء کے پاس ان نکتہ سنج مفکرین کے اس اعتراض کا کیا جواب ہو گا کہ انہوں نے مثبت پہلوؤں سے چشم پوشی کر کے صرف منفی پہلوؤں کو اچھالنے اور یوں تنقید برائے تنقید کا ناپختہ انداز اپنانے میں جذباتیت کا مظاہرہ کیا،حالانکہ مل بیٹھ کر افہام و تفہیم کی راہیں نکالنے کا دروازہ بند نہ تھا اور یوں بھی اگر وہ اس درمیانی راہ پر قدم رکھ دیتے،خواہ وہ کیسی ہی کڑی شروط پر ہوتی،تو اپنے زوردار کردار کے بل بوتے پر قوم سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بہت جلد منوا لیتے۔آخر لٹیروں اور قوم کا خون چوسنے والوں سے جان بخشی کی فکر کس دور میں نہیں رہی؟ یوں میدان بہرحال انبیاء کے ہاتھ ہی رہتا،ویسے بھی جس نصرت الٰہی کی امید ہر الیکشن پر آج کے گنہگاروں کا آخری سہارا ہے انبیاء اس سے مایوسی کا کفر نہ کرتے تھے۔
الغرض چند اشخاص کا اس طرح دستور سے اپنا مطلب نکالنا کیا دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش نہیں؟ اگر دنیا کے معروف امور میں ہر آدمی کی اپنی مراد معتبر ہونے لگے تو اس وقت انسان جو زبانیں بول رہے ہیں وہ ہرگز اس مخلوق کے لائق نہ رہیں۔
ثالثًا: ان سب باتوں کے بعد کاش کہ صرف اتنا ہو کہ یہ دستور کے صرف ''اسلامی'' حصہ ہی کو لیتے اور کافر حصہ کو مسترد کرنے پر تلے رہتے،جو نوشتہ دیوار کا انکار تو ہوتا مگر ایک گونا اخلاص کا بھرم شاید رہ جاتا۔ذرا ان سے پوچھیئے جب انتخاب کی دیوی انہیں محفل طاغوت کا ممبر بناتی ہے تو پانچ سال کی رکنیت کے لئے جو حلف اٹھایا جاتا ہے کیا یہاں سے شروع نہیں ہوتا۔