فهرس الكتاب

الصفحة 84 من 302

صبر کی فضیلت

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم اور اسلاف کے اقوال:

ابوبکر رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے، لوگوں نے عیادت کی اور پوچھا کہ طبیب نہ بلوادیں؟ ''انھوں نے کہا مجھے طبیب نے دیکھ لیا ہے اور اس نے کہا: (( إِنِّيْ فَعَّالٌ لِمَا أُرِیْدُ ) )میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔

عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ''ہم نے زندگی کی سب سے بہترین چیز صبر کو پایا ہے۔'' [1]

سیّدناعلی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ''صبر کا ایمان میں وہ درجہ ہے جو جسم میں سر کا ہے، اگر سر کاٹ دیا جائے تو جسم بے کار ہو جاتا ہے۔'' پھر بلند آواز میں فرمایا: ''جس کے پاس صبر نہیں اس کے پاس ایمان بھی نہیں۔''

سیّدناحسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ''صبر خیر کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے جو اللہ اپنے محبوب بندوں کو ہی یہ عطا فرماتا ہے۔''

میمون بن مہران رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے: ''صبر کے علاوہ کسی نے کوئی ایسی چیز نہیں پائی جو خیر کو انتہاتک پہنچانے والی ہو۔''

سلیمان بن مہران کا قول ہے: صبر کے علاوہ ہر نیکی کا اجر معلوم کیا جاسکتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:

(إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ) (الزمر:10)

کچھ نیک لوگ جیب میں ایک پرچی رکھتے تھے جس پر یہ آیت لکھی ہوئی ہوتی تھی:

(وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا) (الطور:48)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت