بے شک میں مچھلی بھول گیا اور مجھے وہ نہیں بھلائی مگر شیطان نے کہ میں اس کا ذکر کروں اور اس نے اپنا راستہ سمندر میں عجیب طرح سے بنالیا۔''
مندرجہ بالا آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ نسیان بھی شیطان کا ایک ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الکہف میں موسیٰ علیہ السلام کے خدمت گار کی زبان سے ''وَمَا اَنْسٰنِیْہُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذکُرَہٗ وہم ہونے کا وسوسہ:
بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے کہ جن کے دل میں شیطان وہم کی بیماری ڈال دیتا ہے۔ وہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ وہ بیمار ہیں۔ پھر وہ صبح وشام بیماری کی حالت میں رہتے اور موت کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ جب یہ وہم دل میں پختہ ہو جائے تو انسان کی زندگی مایوسیوں کا شکار ہو جاتی ہے اور وہ دائمی مریض بن جاتا ہے۔ وہ ہر طرح کی خوشیوں اور نعمتوں سے منہ موڑلیتا ہے۔ روزانہ وہ اس انتظار میں ہوتا ہے کہ کب موت کا فرشتہ اس کے دروازے پر دستک دے دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ تو اسے وقت مقررہ تک مہلت دیتا ہے۔ اس قسم کی بیماری میں مبتلا بندہ روزانہ مرتا ہے اور ہرگزرتے لمحے کے ساتھ اس کی بیماری میں اضافہ ہو تا جاتا ہے ۔ اگر اس مریض سے سوال کیا جا ئے کہ تو کب سے اس مرض میں مبتلا ہے اور یہ شیطانی وسوسہ کتنی دیر سے اس پر مسلط ہے ؟ تو وہ جواب دے گا کہ کئی سالوں سے وہ اس بیماری میں مبتلا ہے۔ اب اس سے دوسرا سوال کریں: کیا جو وہم تمہارے دل میں پیدا