فهرس الكتاب

الصفحة 157 من 331

پہلا باب

ایک ہاتھ سے مصافحہ کے مسنون ہونے کے ثبوت میں

پہلی روایت

حافظ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ تمہید شرح موطا میں لکھتے ہیں۔

حدثنا عبد الوارث بن سفیان قال ثنا قاسم ابن اصبغ ثنا ابن وضاع قال ثنا یعقوب بن کعب قال ثنا مبشر بن اسمعیل عن حسان بن نوح عن عبید اللہ ابن بسر قال ترون یدی ھذہ صافحت بھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وذکرا لحدیث ۔

یعنی عبید اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تم لوگ میرے اس ہاتھ کودیکھتے ہو۔ میں نے اسی ایک ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مصافحہ کیا ہے ، اور ذکر کیا حدیث کو۔ یہ حدیث صحیح ہےاس حدیث سے بصر احت ثابت ہوا کہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنا مسنون ہے۔ [1]

ساداہل الزمان فی الحفظ والا تقان قال ابو الولید الباجی لم یکن بالاندلس مثل ابی عمر فی الحدیث ۔ اور پھر لکھتے ہیں۔

کان دینا صینا ثقہ حجۃ صاحب مستند واتباع اور پھر لکھتے ہیں۔

قال الحمیدی ابو عمر فقیہ حافظ مکثر عالم بالقراء ات و بالخلاف وبعلوم الحدیث والرجال انتھٰی

اور دوسرے راوی عبد الوارث بن سفیان ہیں۔ یہ حافظ ابن عبد البر رحمۃ اللہ علیہ کے شیوخ کبار سے ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت