اور فرمائیں کہ کوئی غیر مقلد یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ امام محمد بن نصر مروزی رحمۃ اللہ علیہ کا محض خواب وخیال ہے کیونکہ بخاری اور مسلم میں یہ حدیث موجود ہے کہ حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا بے شک اس نے مجھی کو دیکھا۔ کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آسکتا اور مسلم شریف میں ہے کہ صالح مرد کا خواب نبوت کے چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ پس اب مستدل کو لازم ہے کہ اپنے مذہبِ حنفی کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار فرمائیں۔
وہی مستدل صاحب لکھتے ہیں کہ
عمدۃ القاری اور فتح الباری میں ہے کہ ابو اسماعیل بن ابرہیم فرماتے ہیں کہ میں نے حماد بن زید کو دیکھا کہ ان کے پاس عبد اللہ بن مبارک مکہ معظمہ میں تشریف لائے تو آپ نے دونوں ہاتھ سے مصافحہ کیا اور حماد بن زید اور عبد اللہ بن مبارک جلیل القدر تابعی تھے۔ اس روایت سے بخوبی واضح ہے کہ مصافحہ دونوں ہاتھ سے زمانہ خیر القرون میں عمل درآمد تھا اور صحابہ رضی اللہ عنہ کے دیکھنے والے یعنی حضرات تابعین رحمۃ اللہ علیہ بھی دو ہی ہاتھ سے مصافحہ کرتے تھے۔ پس جو لوگ دو ہاتھ سے مصافحہ کو خلاف سنت کہتے ہیں تاوقتیکہ ایک ہاتھ سے مصافحہ کرنے کی کوئی حدیث پیش نہ کریں۔ ان کا قول قابلِ اعتبار نہیں ہو سکتا۔
جواب
یہ دلیل دونوں ہاتھ سے مصافحہ کے مسنون ہونے کی دلیل نہیں ہے۔ہاں! مستدل کی ناواقفی اور نافہمی کی البتہ دلیل ہے۔
اولًا: اس وجہ سے کہ مستدل نے حماد بن زید اور عبد اللہ بن مبارک کو تابع بتایا ہے حالانکہ یہ دونوں شخص تابعی نہیں تھے،بلکہ اتباعِ تابعین سے تھے۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے ان دونوں بزرگوں کر طبقہ ثامنہ سے لکھا ہے اور طبقہ ثامنہ اتباع تابعین کا طبقہ ہے دیکھو تقریب التہذیب۔ پس مستدل کا ان دونوں بزرگوں کو تابع لکھنا سراسر ناواقفی ہے۔
ثانیًا:اس وجہ سے کہ تابعین اور اتباع تابعین کے اقوال وافعال بالاتفاق حجت نہیںنہیں کما تقرر فی مقرہ پس دونوں ہاتھ سے مصافحہ کے مسنون ہونے پر مجرد حماد بن زید کے فعل سے احتجاج کرنا محض