فلما جعل اللہ الاسلام فی قلبی اتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقلت یا رسول اللہ ابسط یدک لا یایعک فبسط یمینہ نقبضت یدی فقال مالک یا عمرو فقلت اردت ان اشترط فقال تشترط ماذا قلت یغفرلی فقال اما حلمت یا عمرو ان الاسلام یھدم ما کان قبلہ (مشکوٰۃ:ص ۱۴ج۱)
یعنی عمرو بن العاص کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے میرے قلب میں اسلام ڈالا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا یا رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ (مبارک) کو بڑھائیے کہ میں آپ سے بیعت کروں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داہنے ہاتھ کو بڑھایا۔ پھر میں نے اپنا ہاتھ سمیٹ لیا۔ آپ نے فرمایا کیا ہے تجھ کو اے عمرو۔ میں نے کہا کچھ شرط کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: کس بات کی شر کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کہا اس بات کہ میری مغفرت کی جائے۔ آپ نے فرمایا تجھ کو خبر نہیں ہے کہ اسلام کے پہلے جتنے گناہ ہوتے ہیں ان کو اسلام نیست ونابود کر دیتا ہے۔
اس حدیث کو امام مسلم نے بھی صحیح میں روایت کیا ہے،مگر اس میں بجائے ابسط یدک کے ابسط یمینک واقع ہوا ہے۔ اس حدیث سے صراحۃً معلوم ہوا کہ بیعت کے وقت ایک ہی ہاتھ سے (یعنی داہنے ہاتھ) مصافحۃ کرنا مسنون ہے۔کیونکہ اگر دونوں ہاتھ سے مصافحہ ضروری یا مسنون ہوتا تو آپ اپنے دونوں ہاتھوں کو بڑھاتے اور واضح ہو کہ اس حدیث کے موافق بیعت کے وقت داہنے ہی ہاتھ سے مصافحہ کرنے کی عادت بھی برابر جاری ہے۔
ملا علی قاری مرقاہ شرح مشکوٰۃ (ص۸۷ج۱) میں اس حدیث کے تحت لکھتے ہیں۔
ابسط یمینک ای افتحھا ومد ھا لا ضع یمینی علیھا کم ھو العادۃ فی البیعۃ
یعنی اپنے داہنے ہاتھ کو بڑھائیے تاکہ میں اپنے داہنے ہاتھ کو آپ کے داہنے ہاتھ پر رکھوں ۔جیسا کہ بیعت میں عادت ہے۔