اونحوھذا من العبارۃ وھذا اللفظ الذی وقع فی ھذا الباب من طریق بقیۃ یحتمل وجھین احدھما ارادۃ العموم فی کل تکبیرۃ تقع قبل الرکوع ویند رج فی ذالک تکبیرات العیدین والظاھران البیہقی فھم ھذا فی ھذا الباب والثافی ارادۃ العموم فی تکبیرات الرکوع لا غیر وانہ'' کان یرفع فی جمیع تکبیرات الرکوع کما ھو المجھوم من ''الفاظ یقیۃ الرواۃ والظاھر ان ھذا ھو الذی فھمہ البیہقی فیما مضی فقال باب السنۃ فی رفع الیدین کلما کبر للرکوع وذکر حدیث بقیۃ ھذا فعلی ھذا یندرج فیہ تکبیراۃ العیدین فان ارید الوجہ الاول وھو العموم الذی یندرج فیہ تکبیرات العیدین فعلی البیہقی فیہ امران احدھما الا حتجاج بمن ھو غیر حجۃ لو انفردو لم یخالف الناس فیکف اذا اخالفھم والثانی انہ اذا حتج بہ ودخلت تکبیرات العید ین فی عمومہ لا حاجۃ الی ھذاالقیاس الذی حکاہ عن الشافعی وان ارید الوجہ الثانی وھو العموم فی تکبیرات الرکوع لا غیر لم یندرج نیہ تکبیرات العیدین فسقط الاستدلال بہ ووقع الخطاء من الراوی حیث اراد تکبیرات الرکوع لا غیر فاقی بعبادۃ تعم تکبیرات الرکوع وغیرھا والظاھر الوھم فی ذلک من بقیۃ انتھٰی۔
الحاصل: ابن عمر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث سے بھی تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کرنا ثابت نہیں ہوتا۔ واللہ تعالیٰ اعلم
سوال 5: یہ تو معلوم ہوا کہ تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کرنا کسی حدیث مرفوع سے ثابت نہیں ہے، نہ صحیح سے نہ ضعیف سے ۔اب سوال یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے بسند صحیح تکبیراتِ عیدین میں رفع الیدین کرنا ثابت ہے یا نہیں۔اگر ثابت ہے تو کون کون صحابہ رضی اللہ عنہم سے ؟