فهرس الكتاب

الصفحة 324 من 331

نکلے تو ٹوٹنے نہ پائے، جو ہڈی نکلے، اس کو بحفاظت تمام پھر اسی قبر میں دفن کر دینا چاہیے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مردہ کی ہڈی کا توڑنا ایسا ہے جیسے زندہ کی ہڈی کا توڑنا۔ روایت کیا اس کو ابو داود نے ، مردہ کو لحد میں رکھنے کے واسطے بقدر ضرورت دو یا تین یا چار آدمی قبر میں داخل ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر میں چار آدمی داخل ہوئے تھے۔ عورت کی قبر میں اس کے محرم لوگ داخل ہوں اور عورت کی قبر میں اس کا شوہر بھی داخل ہو سکتا ہے، اگر محرم یا شوہر موجود نہ ہوں تب غیر محرم داخل ہوں۔ فقہائِ حنفیہ نے لکھا ہے کہ غیر محرم میں جو بوڑھے ہوں وہ عورت کی قبر میں داخل ہوں اور اگر بوڑھے موجود نہ ہوں تو جوانوں میں جو صالح ودیندار ہوں وہ داخل ہوں۔

(کذافی الطحطاوی:ص۳۸۱ ج۱)

میت کو قبر میں قبر کے پائتانہ کی طرف سے داخل کرنا سنت ہے، ابو داود میںابو اسحق سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن یزید نے میت کو قبر کے پائتانہ سے قبر میں داخل کیا اور کہا کہ یہ سنت ہے، حافظ ابن حجر رحمۃ اللہ علیہ نے داریہ (ص۱۴۸) میں لکھا ہے کہ اس حدیث کے سب راوی ثقہ ہیں، اور حافظ زیلعی نے نصب الرایہ (ص ۳۶۲) میں لکھا ہے کہ اس حدیث کو بیہقی نے بھی روایت کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس کی اسناد صحیح ہے [1] اور حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مردہ قبر کے پائتانہ سے قبر میں داخل کیا

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت