الصفحة 437 من 555

{فَأَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَہُ بِیَمِیْنِہٖ. فَسَوْفَ یُحَاسَبُ حِسَابًا یَّسِیْرًا. وَیَنْقَلِبُ إِلٰی أَہْلِہٖ مَسْرُوْرًا}

'' تو (اس وقت ) جس شخص کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامہ دیا جائے گا ٭ اس کا حساب تو بڑی آسانی سے لیا جائے گا ٭ اور وہ اپنے اہل کی طرف ہنسی خوشی لوٹ آئے گا ۔''

{وَأَمَّا مَنْ أُوْتِیَ کِتَابَہُ وَرَائَ ظَہْرِہٖ فَسَوْفَ یَدْعُوْ ثُبُوْرًا. وَّیَصْلٰی سَعِیْرًا. إِنَّہُ کَانَ فِیْ أَہْلِہٖ مَسْرُوْرًا. إِنَّہُ ظَنَّ أَنْ لَّنْ یَّحُوْرَ . بَلٰی إِنَّ رَبَّہُ کَانَ بِہٖ بَصِیْرًا} [1]

''ہاں جس شخص کا اعمال نامہ اس کی پیٹھ کے پیچھے سے دیا جائے گا ٭ تو وہ موت کو بلانے لگے گا ٭ اور بھڑکتی ہوئی جہنم میں داخل ہو گا ٭یہ شخص اپنے متعلقین میں خوش تھا ٭ اس کا خیال تھا کہ اللہ کی طرف لوٹ کر ہی نہ جائے گا ٭ کیوں نہیں ! اس کا رب اسے بخوبی دیکھ رہا تھا ۔ ''

برادرانِ اسلام ! یہ موضوع اگلے خطبۂ جمعہ میں بھی ان شاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گا ۔ آخر میں ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گوہیں کہ وہ اپنے خاص فضل وکرم سے ہم سب کو روزِ قیامت کی سختیوں سے محفوظ رکھے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت