فهرس الكتاب
سے باخبر نہ تھے، بلکہ حدیث و سنت کی گتھیاں سلجھانے اور مسلکِ سلف کی پاسداری کا جو سلیقہ اللہ ذوالجلال نے انھیں بخشا تھا، وہ فراہی مرحوم میں تلاش کرنا بے سود ہے۔ [1]
حضرت مولانا رحمہ اللہ سے پہلی ملاقات اور تعارف الجامعۃ السلفیہ فیصل آباد میں ہوا۔ جب یہ ناکارہ درجہ رابعہ میں پڑھتا تھا۔ اِن دنوں جامعہ کا ماحول میرے لیے
کسے خبر نہیں کہ سورۃ الفیل کی تفسیر میں اس کے عجوبہ پن کو دور کرنے کے لیے جو کوشش انھوں نے کی ہے، معجزات کا انکار کرنے والے اسی کو لے اڑے۔ مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی نے اس پر تفصیلًا نقد کیا ہے اور بجا طور پر یہ لکھا کہ ''ہم مولانائے مرحوم کی خدمتِ قرآن کا احترام کرتے ہوئے ان کے بعض دوسرے تفسیری مقامات کی طرح اس مقام سے بھی اختلاف کرنے پر مجبور ہیں۔'' (قصص القرآن ۳/ ۳۷۶)
حیرت ہے علامہ سید ندوی مرحوم نے اس تفسیر کی بنا پر ''رمی جمار'' کی ایک علت یہ بھی لکھ دی کہ ''عربوں کی سنگ اندازی سے ابرہہ کا سارا لشکر تباہ ہو گیا، غدار بھی ہلاک ہو گئے۔ یہ کنکریوں کا پھینکنا اسی {تَرْمِيهِمْ } کی سنگ باری کی یادگار ہے۔'' (سیرۃ النبی ۵/ ۳۳۸) لا حول ولا قوۃ إلا باللہ۔
حالانکہ حدیث پاک میں جب اس کی علت صاف طور پر ''لا قامۃ ذکر اللہ'' (سنن الترمذي ۲/ ۱۰۵ مع التحفۃ) موجود ہے تو پھر کسی اور کہانی کی ضرورت ہی کیا ہے؟!
٭ چور دروازے کھلتے نظر ہی نہیں آتے، بلکہ اب فی الواقع کھل گئے ہیں۔ چنانچہ مولانا امین احسن اصلاحی اور ان کے تلامذہ آج کل انکارِ حدیث کے محاذ پر پوری سرگرمی سے مصروف ہیں اور پرویز کے مشن کو پورا کرنے میں سرگرداں ہیں۔ (صلاح الدین یوسف) .