فهرس الكتاب

الصفحة 330 من 407

امام ابو الحسن القطان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کو جسے امام ابن ماجہ نے ''محمد بن بشار ثنا یحیٰی بن سعید عن شعبۃ عن عمرو بن مرۃ عن أبی البختري عن أبي عبد الرحمٰن السلمي عن علي'' کی سند سے روایت کیا تھا۔ اپنی سند سے بیان کیا، جس میں شعبۃ سے روایت میں بھی دو ہی واسطے ہیں۔ مولانا مرحوم نے اس زیادت کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرف اشارہ کر کے وضاحت کر دی، مگر اس کے بعد ''والحدیث أخرجہ'' الخ کہہ کر جو اس کی تخریج کی تو یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث نمبر ۲۲ سے متعلق ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس زیادت سے متعلق قطعًا نہیں، جیسا کہ بظاہر معلوم ہوتا ہے۔ غالب گمان یہ ہے کہ مسودہ میں یہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی دوبارہ تخریج تھی، جسے (۱/۲۰۴) پر اسی حدیث کے آخر میں آنا چاہیے تھا اور دونوں کے الفاظ یکجا کر دینا چاہئیں تھے، مگر مراجعت میں یوں نہ ہو سکا۔ اس قسم کا تسامح ہو جاتا ہے۔ ہمارا مقصود انجاز الحاجہ کا مختصر تعارف ہے۔ مولانا مرحوم نے بلاریب بڑی جانفشانی سے اس میں سنن ابن ماجہ کی روایات کے حوالے سے تمام ضروری اور قابلِ وضاحت باتیں جمع کر دی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی خدمتِ حدیث کی یہ کوشش قبول فرمائے اور ہم ایسے طالب علموں کو اس سے استفادہ کی توفیق بخشے۔ آمین

بعض وضاحتیں:

نامناسب ہو گا اگر ہم بعض ان باتوں کی طرف اشارہ نہ کریں، جو بادی النظر میں محسوس ہوئی ہیں، مثلًا:

1.''باب من حدث عن رسول اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم حدیثًا وھو یری أنہ کذب'' میں حدیث نمبر ۴۰ کے بعد ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت