فهرس الكتاب

الصفحة 139 من 238

نیت کو الفاظ میں ادا کرنا بدعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ایسا ثابت نہیں ہے۔ اور جو کچھ بعض لوگ کرتے ہیں کہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوں تو اونچی آواز میں کہتے ہیں: '' میں عصر کی نماز کی نیت کرتا ہوں ؛ چار رکعت نماز فرض ؛ فلاں جگہ پر....'' ایسا کرنا بدعت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے۔ ہر بدعت کا بوجھ اس کے مرتکب پر ہوتا ہے؛ اس پر کوئی اجر نہیں ملتا۔ اجرکا تعلق اتباع سنت کے ساتھ ہے بدعت اور دین اللہ میں نئی ایجادات کے ساتھ نہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف صاف ارشاد فرمادیا ہے:

'' جس کسی نے کوئی ایسا کام کیا جس کا ہم نے حکم نہیں دیا؛ وہ مردود ہے۔'' (سبق تخریجہ )

یعنی ایسا کام عمل کرنے والے کے منہ پر مار دیا جاتا ہے؛ اسے شرف قبولیت حاصل نہیں ہوتا۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت