فهرس الكتاب

الصفحة 230 من 238

قبر کی آزمائش اور اس کے شر اوربرے اثرات سے سلامت رہنے کی دعا ہے۔

٭ '' وَافْسَحْ لَہُ فِیْ قَبْرِہِ '''' اور اس کے لیے اس کی قبر کو کشادہ کر''''وَنَوِّرْ لَہُ فِیْہِ'' ''اور اس کے لیے اس میں روشنی کر دے'' یعنی قبر روشن کردے۔

٭ ''، أَللّٰہُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَہ٭ '' وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَہیہ بہت ہی جامع اور عظیم الشان دعا ہے۔ جس میں میت کے لیے معافی ؛بخشش ؛ سلامتی ؛ نجات ؛ اکرام و احسان کی دعا ہے اور یہ دعا ایسے اہم وقت میں کی جارہی ہی جب میت پر نماز پڑھی جارہی ہے؛ یا ایسا وقت ہے جب میت کے لیے رحمت اور مغفرت کی دعا میں مبالغہ کرنا مستحب ہے؛ کیونکہ اسے اپنے مسلمان بھائیوں کے سامنے اسی لیے لایا گیا ہے کہ اس کے لیے دعا کریں ۔ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے گناہوں کی مغفرت ؛ عیوب کا پردہ اور غلطیوں کی معافی طلب کریں ۔ یہ ایسی دعا ہے جو ان شاء اللہ میت کو فائدہ دے گی۔ اوریہ دعا اہل ایمان کے مابین رحمت و شفقت اور پیار و محبت کے گہرے اور مضبوط رشتے اور تعلق پر دلالت کرتی ہے۔

٭ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''پھر چوتھی تکبیر کہہ کر اپنے دائیں جانب ایک سلام پھیرلے۔مستحب یہ ہے کہ ہر تکبیر کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھائے [رفع الیدین کرے] ۔''شیخ رحمہ اللہ نے یہ جو کچھ ہر تکبیر کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ یہ صحیح اسناد کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے فعل سے ثابت ہے کہ آپ نماز جنازہ کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع یدین کیا کرتے تھے۔''

رواہ البیہقی فی الکبری 6993 ؛ ابن ابی شیبة 11380 ؛ و صححہ الألبانی فی 'الضعیفة 13؍ 118۔

یہ اس بات کی دلیل ہے آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہوگا؛ کیونکہ ایسا کام رائے سے نہیں ہوتا۔

دعائےجنازہ کے الفاظ میں فرق

٭ ''شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:''اور اگر میت عورت ہو تو ''اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لَھَا....''کہے، اور اگر جناے دو ہوں تو ''اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُمَا....'' کہے، اور اگر دو سے زیادہ ہوں تو ''اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُمْ....'' کہے۔ اور صرف عورتیں ہوں تو ''اَللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہُنَّ....۔''

اگر میت نابالغ ہو تو دعائے مغفرت کے بجائے یہ دعا پڑھے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت