فهرس الكتاب
باب نمبر:1شرعی احکام کی حکمت
شریعت اسلامیہ کی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس کے احکام مسلمانوں کی اکثریت کے لیے اور نارمل حالات میں قابل عمل ہوتے ہیں جب حالات بدل جائیں تو احکام میں بھی تھوڑی بہت تبدیلی کر دی جاتی ہے۔ پھر یہ احکام چونکہ ایک عام انسان کی استعداد رکھنے والوں کے لیے رعایت کو ملحوظ رکھا جاتا ہے اور عام استعداد سے زیادہ استعداد رکھنے والوں کے لیے وسیع میدان عمل کو سامنے لا کر انہیں اس کی زیادہ سے زیادہ بجاآوری کی ترغیب دی جاتی ہے۔ پھر ان احکام کی بجا آوری کے سلسلہ میں مزید دوباتوں کا لحاظ بھی ضروری ہوتا ہے۔
ان تمام مراعات کے باوجود اگر کوئی مسلمان ان احکام کی ٹھیک طور پر بجا آوری میں کمی کرتا ہے یا اس سے انکار کرتا ہے تو اس کا یہ عمل یا تو اسے دائرہ اسلام سے ہی خارج کردے گا یا کم از کم گناہ کبیرہ کا مرتکب ضرور ٹھہرے گا۔
ترغیبات کی بھی ایک حد ہے جو شرعیت اسلامیہ نے مقرر کردی ہے۔ اب اگر کوئی شخص اس حد سے بھی بڑھنے کی کوشش کرے گا تو اس کا یہ عمل اس کی خلوص نیت کے باوجود سنت کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود قرار پائے گا اور وہ شخص اجر