فهرس الكتاب

الصفحة 64 من 138

توحضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےآپ کی تدفین کاانتظاربھی کیااورنمازجنازہ بھی پڑھائی۔

نتائج:

ان تمام ترتصریحات سےجونتائج سامنےآتےہیں وہ درج ذیل ہیں:

1۔فاضلہ دولت (ترکہ) کوقرآن نےخود ''خیر،،کہاہےلہذا فاضلہ دولت کےجواز میں کوئی شک وشبہ باقی نہیں رہتا۔

2۔مال ودولت اسی وقت تک خیر ہےجب کہ اسےجائز طریقوں سےحاصل کیاجائے اوراللہ اوراس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کی منشاکےمطابق خرچ کیاجائےجویہ ہےکہ فاضلہ دولت کوکھلےدل سےاللہ کی راہ میں خرچ کیاجائے۔اگریہ صورت نہ ہوتومال ودولت فتنہ اوربلائےجان ثابت ہوتاہے۔دولت مند صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نےاس ''خیر،،کوخیرکےمقام پرہی رکھا۔مال ودولت کی محبت نےان کےدلوں میں گھرنہیں کیالیکن بعد میں یہ صورت حال نہ رہی جیساکہ ایک مشہورصحابی حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نےاپنی زندگی کےآخری ایام میں فرمایا:

«ان اصحابنا الذین سلفوا ومضوا ولم تنقصهم الدنیابشئ وانا اصبنا مالا نجدله موضعا الاالتراث ولولا ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نهانا ان ندعوا بالموت لدعوت به» (بخاری ۔کتاب المرضی ۔باب تمنی المریض الموت.)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت