فهرس الكتاب

الصفحة 15 من 138

(جنہیں تطوع بھی کہا جاتاہے) کی کئی اقسام ہیں مثلًا:

1۔ فرض رکعات کے ساتھ سنتیں اور نوافل۔ فرض رکعات کے ترک سے کفر لازم آتا ہے۔ مثلًا فجر کی فرض رکعات دوہیں۔ ظہر کی چار، عصر کی چار، مغرب کی تین اور عشاء کی چار۔ اب ان رکعات پر جو اضافہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تطوعا کیا، وہ ہمارے لیے سنت رکعات ہیں۔ مثلًا فجر کی نماز سے پہلے دورکعات سنت یا ظہر سے پہلے چار اور بعد میں دورکعت سنت وغیرہ۔ پھر ان فرض اور سنت رکعات پر مزید رکعات کا تطوعا اضافہ ہوا اسے نفل کہتے ہیں۔ مثلًا ظہر کے آخر میں دورکعت ، مغرب کے بعد دو رکعت نفل اورعشاء میں چار رکعات نوافل ہیں۔

2۔ یہ پانچ نمازیں تو ہر عاقل بالغ، مرد، عورت پر فرض ہیں۔ پھر کچھ نمازیں ایسی ہیں جو ہیں تو فرض مگر ہر ایک پر نہیں۔ انہیں فرض کفایہ کہتے ہیں۔مثلًا نماز جمعہ اور نماز جنازہ اور کچھ نمازیں ایسی ہیں جوسنت ہیں مثلًا تہجد کی نماز، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر تو فرض تھی مگر امت کے لیے سنت مؤکدہ ہے۔ پھر کچھ نمازیں نفل کی حیثیت رکھتی ہیں مثلًا چاشت اور اوابین اور شکرانہ کے نوافل جن کا کوئی وقت مقرر نہیں اور کچھ نمازیں ایسی ہیں جن کا تعلق صرف حالات سے ہوتا ہے۔ مثلًا نماز استسقاء نماز خسوف اور کسوف وغیرہ۔

اب دیکھیے فرض نمازوں اور بالخصوص فرض رکعات کا تارک کافر ہے۔ فرض کفایہ اور سنت موکدہ کا تارک گنہگار ہوتا ہے اور نوافل کی عدم ادائیگی سے کچھ بھی نہیں بگڑتا لیکن ادائیگی کے فائدے ضرور ہیں۔ ایک فائدہ تویہ ہوتا ہے کہ فرائض کی کمی ان سے پوری کردی جاتی ہے، دوسرے نوافل میں کثرت ترقی درجات کا سبب بنتی ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت