فهرس الكتاب

الصفحة 32 من 108

ثابت نہیں ہیں اور جب تک یہ باتیں ثابت نہ ہوں اس کے متعلق یہ کہنا جائز نہیں کہ اس نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا۔''

پھر مذکورۃ الصدر مقام پر اپنے فتوے کو آپ نے ان الفاظ پر ختم کیا ہے:

(( واما الترحم علیہ فجائز بل مستحب بل ہو داخل فی قولنا فی کل صلوٰۃ اللھم اغفر للمؤمنین والمؤمنات فانہ کان مؤمنا۔واللّٰه اعلم ) ) (وفیات الاعیان: ۴۵۰/۳، طبع جدید)

یعنی''یزید کے لیے رحمت کی د عا کرنا (رحمۃ اللہ علیہ کہنا) نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور وہ اس دعا میں داخل ہے جو ہم کہا کرتے ہیں۔ (یا اللہ! مومن مردوں او ر مومن عورتوں سب کو بخش دے) اس لیے کہ یزید مومن تھا! واللّٰہ اعلم''

مولانا احمد رضا خاں کی صراحت:

مولانا احمد رضا خاں فاضل بریلوی، جو تکفیر مسلم میں نہایت بے باک مانے جاتے ہیں، یزید کے بارے میں یہ وضاحت فرمانے کے بعد کہ امام احمد اسے کافر جانتے ہیں او رامام غزالی وغیرہ مسلمان کہتے ہیں، اپنا مسلک یہ بیان کرتے ہیں کہ:

''اور ہمارے امام سکوت فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر، لہٰذا یہاں بھی سکوت کریں گے…'' (احکام شریعت، ص:۸۸، حصہ دوم)

فسق و فجور کے افسانے؟

رہی بات یزید کے فسق وفجور کے افسانوں کی، تو یہ بھی یکسر غلط ہے جس کی تردید کے لیے خود حضرت حسین کے برادر اکبر محمد بن الحنفیہ کا یہ بیان ہی کافی ہے جو انہوں نے اس کے متعلق اسی قسم کے افسانے سن کردیا تھا۔

(( ما رایت منہ ما تذکرون وقد حضرتہ واقمت عندہ فرایتہ مواظبًا علی الصلوٰۃ متحریا للخیر یسال عن الفقہ ملازمًا للسنۃ ) ) (البدایۃ والنہایۃ: ۲۳۶/۸، دارالدیان للتراث، الطبعۃ ۱۹۸۸ء)

یعنی''تم ان کے متعلق جو کچھ کہتے ہو میں نے ان میں سے ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی، میں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت