فهرس الكتاب

الصفحة 66 من 108

کو اس کا امیر مقرر کیا اور اپنے لڑکے یزید کو بھی اس فوج میں شامل ہونے کو کہا لیکن وہ ساتھ جانے کےلیے تیار نہیں ہوا، لشکر وہاں پہنچا اور خبر آئی کہ وہ مصائب سے دوچار ہوگیا ہے اس پر یزید کی خواہش کے مطابق جم غفیر لشکر کا اضافہ کیا جن میں حضرت ابن عباس،حضرت ابن عمر، ابن زبیر اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم وغیرہ بہت سے لوگ تھے۔'' (ملخصًا از تاریخ ابن الاثیر(ج ۳، ص ۲۲۷)

تاریخ ابن خلدون میں بھی (غالبًا) اسی سے ماخوذ تقریبًا ایسا ہی درج ہے۔ (ج:۳، ص:۹، طبع بیروت ۱۹۷۱ء)

اولًا:یہ دونوں کتابیں بعد کی ہیں جب کہ قدیم تاریخوں میں (جو بنیادی مآخذ ہیں) یزید ہی کو لشکر کا سپہ سالار بتلایا گیا ہے جیسا کہ پہلے سارے حوالے درج کیے جاچکے ہیں۔

ثانیًا:ابن الاثیر اور ابن خلدون کی بیان کردہ تفصیل کو اگر پہلے مؤرخین کی مذکورہ تصریحات کی روشنی میں دیکھا جائے تو ا س میں صرف اتنا اضافہ ملتا ہے کہ یزید سے پہلے ایک لشکر سفیان بن عوف کی قیادت میں بھیجا گیا لیکن بوجوہ وہ لشکر کوئی کارکردگی پیش نہ کر سکا جس کے بعد یزید کی سپہ سالاری (قیادت) میں وہ لشکر بھیجا گیا جس نے وہاں جاکر جہاد کیا اور یوں یزیدی لشکر ہی غزوہ قسطنطنیہ کا اولین غازی اور بشارت نبوی کا مصداق قرار پایا۔بنا بریں تمام مؤرخین کا یزید ہی کو اس لشکر قسطنطنیہ کا سپہ سالار قرار دیان بالکل صحیح ہے۔اور ابن الاثیر اور ابن خلدون کی تفصیل بھی اس کے مناقض نہیں، گو اس میں ایک بات کا اضافہ ضرور ہے، تاہم اس اضافے سے یزید کو اس شرف سے محروم کرنے کی کوشش غیر صحیح اور بے بنیاد ہے۔یہ بات تو خود ابن الاثیر کے اپنے ذہن میں بھی نہیں تھی جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی کتاب اسد الغابہ میں یزید ہی کو لشکر قسطنطنیہ کا سپہ سالار لکھا ہے۔ (ج:۲، ص:۸۸، ص:۱۴۵ طبع قدیم، ترجمہ، ابو ایوب انصاری)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت