الصفحة 266 من 423

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات ہیں:

إِنَّ اللّٰه تَعَالَى سَمَّى الْمَدِينَةَ طَابَةَ» [1]

اللہ نے مدینہ منورہ کا نام طابہ ( پاکیزہ ) رکھاہے ۔

اور فرمایا:

مَنْ اسْتَطَاعَ أَنْ يَمُوتَ بِالْمَدِينَةِ فَلْيَمُتْ بِهَا فَإِنِّي أَشْفَعُ لِمَنْ يَمُوتُ بِهَا ۔ [2]

جومدینہ میں مرسکے وہ اس میں مرے کہ میں اس وفات پانے والے کےلیے قیامت کے دن سفارش کروں گا ۔

اور ارشادفرمایا:

عَلَی أَنْقَابِ الْمَدِينَةِ مَلَائِكَةٌ لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَلَا الدَّجَّالُ ۔ [3]

مدینہ کے دروازوں پر اللہ کے فرشتے مقرر ہیں ۔اس میں دجال اور طاعون داخل نہیں ہوسکتے ۔

نیز فرمایا:

إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لاَبَتَيْهَا ۔ [4]

ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کو محترم فرمایاتھا،ا ور میں مدینہ کو محترم قراردیتاہوں ۔

اور ارشاد فرمادیا:

إِنَّ الْإِيمَانَ لَيَأْرِزُ إِلَى الْمَدِينَةِ كَمَا تَأْرِزُ الْحَيَّةُ إِلَى جُحْرِهَا [5]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت