مسلمان فرقوں کے دینی اور صاحب املاک اداروں پر اپنے پہرے بٹھاسکتا ہے تو مرزائی صاحب جائیداد اداروں پر کیوں پہرے نہیں بٹھائے جاتے کہ جن کی سالانہ آمدنی ایک کروڑ روپے سے زیادہ اور جنہوں نے چناب کے کنارے آباد بستی میں علاقہ حکومتی طرز پر سیکرٹریٹ تک بنا رکھاہے اور جس بستی میں مرزائی آقاؤں کی مرضی کے بغیر کوئی شخص کوٹھڑی تک کی تعمیر نہیں کرسکتا اور جہاں کے باسی بڑے فخر ومباہات سے کہتے ہیں کہ ہماری بستی میں بعض سرکاری دفاتر موجود توہیں لیکن ان دفاتر کے سروپیر ہماری امت کے وہی لوگ ہیں جن کی وجہ سے ان سرکاری دفاتر کی حیثیت عملًا مرزائی اداروں کی ہو کر رہ گئی ہے اور صرف اسی پر بس نہیں بلکہ آئے دن مرزائی اخبارات میں اس نوعیت کے اشتہارات آتے رہتے ہیں کہ ملک کے فلاں شعبہ میں اس قدر اسامیاں خالی ہیں اور فلاں میں اس قدر اسامیاں خالی ہیں اور فلاں اس قدر،اس لیے فوری طور پر اپنی درخواستیں ربوہ میں فلاں کے نام ارسال کردی جائیں ۔ اس قسم کے اشتہارات کو پڑھ کر ایک عام آدمی فوری طور پر یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ ربوہ کودرخواستیں لینے کے اختیارات کس نے تفویض کرکھے ہیں ؟
حکومت نے یا ان مرزائی آفیسروں نے جومختلف شعبوں کے سربراہ ہیں اور پھر آیا ان آفیسروں کویا ان کے گماشتوں کوقانون پاکستان کی روسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ ملازمت کی درخواستیں ایک مخصوص غیر مسلم مذہب کے توسط سے طلب کرے، وگرنہ نہ کیا یہ امور حکومت میں مداخلت تونہیں ؟ پاکستان میں بسنے والی مسلمان اکثریت کہ ( جس نےا ور) جس کے لیے اس ملک کوحاصل کیاگیاتھا،ا س بات پر بھی بے چینی کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتی کہ انگریزوں کی پروردہ ، وظیفہ خوار اورجاسوس جماعت کوجومسلمانوں کوتحریک آزادی ( کہ جس کے نتیجہ میں پاکستان ظہور میں آیا ) میں شمولیت سے بازرکھتی اور انگریزوں کی ذلہ خواری پر آمادہ کرتی رہی ، اس طرح کی بے جامراعات سے نوازا جائے جو نہ صرف یہ کہ