بناء پر خداکوحاضر ناظرجان کر اس کی پاک ذات کی قسم کھاکر کہتاہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا ، اگر میں اس حلف کو جھوٹا ہوں توخدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ میں اس بات پر مرزا کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کے لیے بھی تیار ہوں " [1]
اے چشم اشکبار ذرا دیکھ توسہی،
یہ گھر جوجل رہا ہے کہیں تیرا گھر نہ ہو !
اب ذرا خود مزرائیوں کی اپنی گواہیاں بھی شمار کرلیجیے اچھا ہواکہ آپ نے ہمیں توجہ دلاکر ایک اہم بات کوتاریخ کے سینوں میں ہمیشہ کے لیے محفوظ کرنے کاسامان مہیا کردیا وگرنہ آج شائد ہی کسی مسلمان کےحافظہ میں یہ بات موجود رہ گئی ہوتی ؎
نہ صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے رزا سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
اور:
عدد شرے برانگیز وکہ خیر مارواں باشد