ایسے ہی وقت میں اہل حدیث پٹنہ کے اندر ایک ایسے مرکز کی بنیاد رکھ چکے تھے جہاں کے فسخ کی تلقین نہیں بلکہ انگریز کے خلاف بغاوت اور کفار کے مقابل جہاد کا ولولہ انگیز درس دیاجاتا تھا، چنانچہ سرہربرٹ ایڈورڈ لکھتا ہے:
"غداری اور بغاوت کے ایک مرکزی دفتر کا وجود پٹنہ میں بیان کیا جاتاہے " [1]
اورمردم شماری کی رپورٹ بابت ۱۹۱۱ء میں ہے
"ا س پوری مدت میں پٹنہ سازش کا مرکز تھا۔ وہابی مبلغ ہندوستان اور دوسرے قریب کے ملکوں میں اپنے مشن کی تبلیغ کررہےتھے ۔ا ن کے بڑے لیڈر ولایت علی اور عنایت علی پٹنہ کے رہنے والے تھے " [2] "
اور ہنٹر لکھتا ہے
" کتاب جیسی سخت اور باغیانہ ہو، اتنی ہی عوام میں زیادہ مقبول ہوگی ۔ لیکن یہ استعال انگیز لٹریچر تواس مستقل چہار گانہ تنظیم کا ایک حصہ ہے جو وہابی لیڈروں نے بغاوت پھیلانے کےلیے قائم کررکھاہے ۔ اس کے علاوہ سب سے مقدم پٹنہ کا مرکزی دارالاشاعت ہے ۔
پٹنہ کےخلفاء جوان تھک واعظ خود اپنے آپ سے بے پرواہ بے داغ زندگی بسر کرنے والے ،انگریز کافروں کی حکومت کوتباہ کرنے میں ہمہ تن مصروف اور روپیہ اور رنگروٹ جمع کرنے کے لیے ایک مستقل نظام قائم کرنے میں نہایت چالاک تھے، وہ اپنی جماعت کے اراکین کا