الصفحة 207 من 255

وہابیوں سے میل جول کو حرام قرار دینے والے کا ہندوؤں کی نذر و نیاز کے متعلق فتویٰ بھی ملاحظہ فرمائیں:

"ان سے سوال کیا گیا کہ ہندوؤں کی نذر و نیاز کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا ان کا کھانا پینا جائز ہے؟"

جواب میں ارشاد فرماتے ہیں:"ہاں ان باتوں پر آدمی مشرک نہیں ہوتا۔" [1]

ایک دوسری جگہ ہر قسم کی نذر غیر اللہ کو مباح قرار دیا ہے ! [2]

مگر سید نذیر حسین محدث دہلوی رحمہ اللہ اور ان کے شاگردوں کو ملعون قرار دیتے ہیں:

"نذیریہ لعنہم اللہ ملعون و مرتد ابد ہیں۔" [3]

اہل حدیث کو کافر و مرتد کہنے پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ حسب عادت گالی دیتے ہوئے اور غلیظ زبان استعمال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"غیر مقلدین جہنم کے کتے ہیں۔ رافضیوں کو ان سے بدتر کہنا رافضیوں پر ظلم اور ان کی شان خباثت میں تنقیض ہے۔" [4]

"کفر میں مجوس یہود و نصاریٰ سے بدتر ہیں، ہندو مجوس سے بدتر ہیں۔ اور وہابیہ ہندوؤں سے بھی بدتر ہیں۔" [5]

مزید ارشاد کرتے ہیں:

وہابیہ اصلًا مسلمان نہیں۔ ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ ان سے مصافحہ ناجائز و گناہ ہے۔ جس نے کسی وہابی کی نماز جنازہ پڑھی، تو تجدید اسلام اور تجدید نکاح کرے !" [6] "

[2] ایضًا جلد 10 ص 219۔

[3] فتاویٰ رضویہ جلد 6 ص 59۔

[4] ایضًا جلد 66 ص 121۔

[5] ایضًا ص 13۔

[6] بریق المنار درج شدہ فتاویٰ رضویہ جلد 4 ص 218، و فتاویٰ رضویہ جلد 2 ص 121۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت