فهرس الكتاب

الصفحة 11 من 120

پیری مریدی کی ضرورت

راہ سلوک کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ پہلے کسی شیخ طریقت کو اپنا رہبر اور قائد تسلیم کرکے مروجہ طور پر اس سے بیعت کی جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ کسی پیر کی مریدی اختیار کیے بغیر اللہ رب العزت تک ہماری رسائی ناممکن ہے اس سلسلے میں ارباب تصوف کے ارشادات ملاحظہ ہوں:

امام قشیری فرماتے ہیں:

''پھر مرید پر واجب ہے کہ ایک شیخ سے تربیت حاصل کرے،اگر اس کا کوئی شیخ ومرشد نہیں تو شیطان ہی اس کا راہنما ہوگا۔'' [1]

شیخ کردی لکھتے ہیں:

''شیخ کا حصول بعینہٖ اللہ تعالیٰ کا حصول ہے،کیونکہ قاعدہ ہے کہ ''الرفیق ثم الطریق'' اور جس کا کوئی شیخ نہ ہوگا شیطان اس کا شیخ ہوگا۔'' [2]

ایک دوسرے بزرگ کا فرمان ہے:

''جس نے بلا کسی شیخ کے اللہ کا ذکر کیا اسے نہ تو اللہ ہی حاصل ہوگا نہ اس کا نبی نہ شیخ۔'' [3]

شیخ عبد القادر جیلانی کے بارے میں منقول ہے کہ اپنے ایک شاگرد کو مخاطب

[2] المواہب السرمدیۃ، ص:۳۱۳، الانوار القدسیہ ، ص: ۵۲۵، بحوالہ: النقشبندیۃ: عرض وتحلیل، ص:۹۱، ''الرفیق ثم الطریق'' کو بھی بیشتر صوفیہ حدیث رسول کے طور پرپیش کرتے ہیں۔

[3] قلادۃ الجواہر، ص:۱۷۷، بحوالہ الکشف عن حقیقۃ الصوفیۃ، ص:۶۰۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت