فهرس الكتاب

الصفحة 57 من 120

نہیں جانتا اور نہ انہیں یہ معلوم ہے کہ کب اٹھائے جائیں گے''

{قُل لاَّ أَمْلِکُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَلاَ ضَرًّا إِلاَّ مَا شَاء اللّٰهُ وَلَوْ کُنتُ أَعْلَمُ الْغَیْبَ لاَسْتَکْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ وَمَا مَسَّنِیَ السُّوءُ إِنْ أَنَاْ إِلاَّ نَذِیْرٌ وَبَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُؤْمِنُون} [1]

''اے نبی فرمادیجیے کہ میں خود اپنی ذات خاص کے لیے کسی نفع کا اختیار نہیں رکھتا اور نہ کسی ضرر کا،مگر اتنا ہی جتنا اللہ نے چاہا اور اگر میں غیب کی باتیں جانتاہوتا تومیں بہت سے منافع حاصل کرلیتا اور کوئی نقصان مجھ کونہ پہنچتا،میں تو محض ڈرانے والا اور بشارت دینے والا ہوں ان لوگوں کو جو ایمان رکھتے ہیں''

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:

''ومن زعمَ أنہ یُخبر بما یکون في غد فقد أعظم علی اللّٰه الفِریۃ،واللّٰه یقول:قل لا یعلم من في السموات والأرض الغیب إلا اللّٰه'' [2]

جو شخص یہ گمان رکھتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کل کو پیش آنے والے حالات کا علم رکھتے ہیں وہ اللہ رب العزت پر بہت بڑا بہتان باندھتا ہے،کیوں کہ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ:اے نبی آپ کہہ دیجیے کہ آسمان وزمین میں جتنے بھی ہیں کوئی غیب کی بات نہیں جانتا سوائے اللہ کے۔

ملا علی قاری علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:

''ثم اعلم أن الانبیاء لم یعلموا المغیبات من الأشیاء إلا ما أعلمھم اللّٰه أحیانا،و ذکر الحنفیۃ تصریحا بتکفیر باعتقاد أن النبي یعلم الغیب لمعا رضۃ قولہ تعالیٰ:قل لا یعلم من في السموٰت والأرض الغیب إلا اللّٰه'' [3]

[2] صحیح بخاری، ص:۱۰۴۱، حدیث نمبر:۴۸۵۵، صحیح مسلم: ۱؍۹۸، سنن ترمذی:۳۰۶۸۔

[3] شرح فقہ اکبر، ص:۱۸۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت