(۱) دین میں غلو یا مبالغہ آرائی:
مذہبی پیشواؤں اور دینی رہنماؤں کے مرتبہ میں حد سے زیادہ مبالغہ آرائی اہل کتاب خصوصًا قوم یہود کی نمایاں صفت ہے،قرآن مجید میں متعدد جگہوں پر اس عیب کی نشان دہی کی گئی ہے،مثلًا:
{ یا اھل الکتاب لا تغلوا في د ینکم ولا تقولوا علی اللّٰه الا الحق }
''اے اہل کتاب! (یہود ونصاریٰ) اپنے دین میں غلو اختیار نہ کرو اور اﷲ تعالیٰ سے منسوب کرکے غلط باتیں نہ کہو ''۔ (النساء:۷۱)
{ وقالت الیھود عزیر ابن اللّٰه وقالت النصاری المسیح ابن اللّٰه }
''یہود نے عزیر کے بارے میں دعویٰ کیا کہ وہ اﷲ کے بیٹے ہیں اور نصاریٰ مسیح کو اﷲکا بیٹا بتاتے ہیں''۔ (التوبۃ:۳۰)
''یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہود ونصاریٰ کے علاوہ کوئی دوسرا جنت میں داخل نہ ہونے پائے گا۔یہ ان لوگوں کی دل بہلاوے کی باتیں یں،آپ ان سے پوچھئے کہ اپنے اس دعویٰ کی کوئی دلیل ہو تو لاؤ اگر تم سچے ہو''۔ (البقرۃ:۱۱۱)
(۲) اپنے دینی رہنماؤں کو اﷲکے اختیارات سے متصف کرنا:
{ اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللّٰه } (التوبۃ:۳۱)
''انہوں نے اﷲ کو چھوڑ کر اپنے دینی پیشواؤں او ر علماء ومشائخ کو اپنا رب بنالیا ہے ''
{ قل یا اھل الکتاب تعالوا الی کلمۃ سواء بینا وبینکم الا نعبد الا اللّٰه ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللّٰه } (آل عمران:۶۴)