فهرس الكتاب

الصفحة 124 من 348

(( اَلْبَخِیْلُ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيَّ ) ) [1]

''بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکرِ جمیل آیا اور اُس نے مجھ پر درود نہ پڑھا۔''

اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکرِ جمیل پر درود شریف نہ پڑھنے والے کو وعید سنائی گئی ہے اوراُسے بخیل شمار کیا گیا ہے جبکہ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ایک حدیث میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

(( اِنَّ أَبْخَلَ النَّاسِ مَنْ ذُکِرْتُ عِنْدَہٗ فَلَمْ یُصَلِّ عَلَيَّ ) ) [2]

'' لوگوں میں سے سب سے بڑا بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکرِ جمیل آئے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے۔''

اس حدیث میں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر درود نہ پڑھنے والے شخص کو سب سے بڑا بخیل قرار دیا گیا ہے۔

۳۔ قبولیتِ دعاء میں رکاوٹ:

اسی موضوع کے بعض آثار بھی ہیں جیسا کہ شعب الایمان بیہقی، معجم طبرانی اوسط اورمسندالفردوس دیلمی میں حضرت علی وانس رضی اللہ عنہما سے موصولًا اور موقوفًا مروی ہے جسے بعض کبار محدّثین کرام نے موصولًا بھی صحیح قرار دیا ہے، کیونکہ اس کے کئی شواہد بھی ہیں، اس کے الفاظ ہیں:

(( کُلُّ دُعَائٍ مَحْجُوْبٌ حَتّٰی یُصَلّٰی عَلٰی النَّبِيِّﷺ ) ) [3]

''ہر دعا اُس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے۔''

[2] فضل الصلوٰۃ علیٰ النبيﷺ [حدیث: 37]

[3] الصحیحۃ (5؍54) صحیح الجامع (4399) الترغیب (2؍505)

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت