فهرس الكتاب
اسی حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(( ہَجَاہُمْ حَسَّانُ فَشَفَیٰ وَ اسْتَشْفَیٰ ) )
''حسان رضی اللہ عنہ نے کفار کی ہجو کی، اہلِ ایمان کے دلوں کو شفاء و سکون مہیّا کیا اور [کفار و مشرکین کی دھجیاں بکھیر کر] خود بھی سکون و چین پایا۔''
جبکہ صحیح بخاری و مسلم، نسائی اور مسند احمد میں ارشادِ نبوی ہے:
(( اُہْجُہُمْ، أَوْ قَالَ: ہَاجِہِمْ وَ جِبْرِیْلُ مَعَکَ ) ) [1]
'' ان مشرکین کی ہجو کرو اور جبریل علیہ السلام تمھارے ساتھ ہیں۔''
اسی طرح صحیح بخاری و مسلم، ابو داود، نسائی، اور مسند احمد میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( یَا حَسَّانُ! أَجِبْ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ، اَللّٰہُمَّ أَیِّدْہُ بِرُوْحِ الْقُدْسِ ) ) [2]
'' اے حسان! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے [ان مشرکین کی ہجو کا] جواب دو۔ [اور ساتھ ہی یہ دعاء فرمائی:] اے اللہ! روح القدس [حضرت جبریل علیہ السلام ] کے ذریعے اس کی مدد فرما۔''
یہ تھے شاعرِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ۔ صحیح مسلم میں ان کے بعض اشعار بھی مذکور ہیں۔ چنانچہ وہ فرماتے ہیں ؎
1)ہَجَوْتَ مُـحَـمَّــدًا فَأَجَبْتُ عَنْہُ
وَ عِنْدَ اللّٰہِ فِيْ ذٰلِکَ الْجَزَائٗ
2)ہَجَوْتَ مُـحَـمَّــدًا بَرًّا وَ تَقِیًّا
رَسُوْلُ اللّٰہِ شِیْمَتُہُ الْوَفَائٗ
[2] صحیح مسلم (4؍1933، حدیث: 2485)