تعلیم حاصل کرتے تھے، دن بھر گفتگو رہتی تھی تاکہ ان مقامی مرزائیوں کو راہِ راست پر لایا جائے، لیکن وہ دونوں اپنے فاسد عقیدے پر مر ے۔
انہی ایام میں مولانا صاحب مرحوم نے ایک رات خواب دیکھا:
'' لوگوں کا بہت بڑا ہجوم ان کے مکان پر جمع ہے اور انھوں نے شور مچایا ہوا ہے کہ مرزا غلام احمدقادیانی کا جنازہ ان کے مکان پر موجود ہے۔مولانا یہ بات سن کر گھر گئے تو دیکھا کہ واقعی چار پائی پر ایک نعش رکھی ہوئی ہے اور اس سے بدبو اٹھ رہی ہے۔مولانا نے فورًا حکم فرمایا کہ اس خبیث کو اٹھا کر فورًا لے جاؤ۔چنانچہ اس کو اٹھا کر لے جایا گیا۔''
میرے خیال میں ان کی تبلیغ سے واقعی مرزائیت کا جنازہ اٹھ گیا، چنانچہ غالبًا اس خواب کے بعد مولانا نے شملہ میں جلال الدین شمس مرزائی سے مناظرہ کیا اور اسی میدان میں 17 مرزائی مرزائیت سے تائب ہوگئے۔
دوسرا خواب:
بوہڑ والی مسجد اور دیگر مساجد جو گکھڑ میں اس وقت موجود تھیں یعنی قیام پاکستان سے پہلے۔یہ سب مسجدیں ان بریلویوں کے قبضے میں تھیں جو آج کل کے بریلویوں سے بہت بہتر تھے۔مولانا احمد الدین صاحب اور ان کے چچیرے بھائی مولوی فضل احمد صاحب اور پھر کچھ وقفے کے بعد میرے محترم بھائی ابو الشفاحکیم محمد امین صاحب کی کوششوں سے لوگ توحید وسنت سے روشناس ہوئے۔چنانچہ مولانا احمد الدین صاحب مرحوم نے غالبًا ایک سال تک گکھڑ کی مسجد بوہڑ والی میں جمعۃ المبارک کا خطبہ دیا، جس سے لوگوں کے دل بہت حد تک توحید وسنت کی طرف مائل ہوگئے۔سب نے مل کر مولانا مرحوم سے کہا کہ اگر آپ رفع الیدین اور آمین بالجہر