فهرس الكتاب

الصفحة 94 من 358

چھٹا باب

علماے احناف سے مناظرے

اس باب میں مولانا احمد الدین گکھڑوی کے ان مناظروں کا تذکرہ کیا جاتا ہے جو انھوں نے مختلف مقامات میں (بریلوی) علماے احناف سے کیے۔

( ضلع فیروزپور کے ایک گاؤں میں مناظرہ:

1936ء کی بات ہے، جب استاذِ مکرم حضرت مولانا محمد عطاء اللہ حنیف بھوجیانی کوٹ کپورہ (ریاست فرید کوٹ) میں خطابت و تدریس کا فریضہ سر انجام دیتے تھے، اس وقت ضلع فیروزپور کے ایک گاؤں میں (جس کانام ککھاں والا تھا) ایک اہلِ حدیث عالمِ دین مولانا محمد عباس قیام فرما تھے۔وہ اس نواح کے مشہور خطیب اور مدرس تھے۔وہاں احناف کے بریلوی نقطہء نگاہ کے ایک عالم نے اشتہار شائع کیا کہ دیہات میں جمعہ نہیں پڑھنا چاہیے۔''صلاۃ الجمعۃ في القریٰ'' ایک ایسا موضوع تھا، جس پر اس زمانے میں بحثوں کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔احناف دیہات میں جمعہ پڑھنے کی شدید مخالفت کرتے تھے اور اہلِ حدیث دیہات میں جمعہ پڑھنے کو قرآن و حدیث کی روشنی میں ضروری قرار دیتے تھے۔اس مسئلے پر تحریری اور تقریری صورت میں فریقین کے درمیان بحثیں ہوتی رہتی تھیں۔

مولانا محمد عباس ایک دن مولانا عطاء اللہ صاحب بھوجیانی کی خدمت میں آئے اور فرمایا کہ انھوں نے اس موضوع پر بریلوی حضرات سے مناظرے کی تاریخ

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت