اسلامی حدود کا دائرہ وسیع ہوا اور لوگوں کے لیے آپ نے ایسے فرامین جاری کیے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس طرح خلافت فاروقی کی مدت طویل ہونے کی وجہ سے لوگوں کو کافی فائدہ پہنچا، آپ نے شہروں کو آباد کیا، ہر محکمہ کے الگ دفاتر تیار کرائے اور فتوحات ومال غنیمت کی کثرت ہوئی۔
ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم (( فَلَمْ أَرَعَبْقَرِیًّا مِنَ النَّاسِ یَْفرِیْ فَرْیَہٗ۔ ) )کا معنی ہے کہ میں نے ایسا کوئی سردار نہیں دیکھا جو آپ جیسا کام کرتا ہو اور آپ جیسا پختہ عزم ہو۔ اور قاضی عیاض رحمہ اللہ نے ''ضَرَبُوا الْعَطَنَ'' کی تشریح میں لکھا ہے کہ یہ خصوصیت صرف خلافت فاروقی کو حاصل ہے۔ اور کچھ لوگوں نے کہا: خلافت فاروقی اور خلافت صدیقی دونوں کو شامل ہے اس لیے کہ دونوں کی بالغ نظری، حسن تدبیر اور مسلمانوں کے مفاد ومصلحت کی مکمل رعایت ہی سے یہ چیز وجود میں آئی، ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مرتدین کو پست کیا اور مسلمانوں کو متحد کرکے ان میں الفت ومحبت پیدا کی، فتوحات کا آغاز کیا اور معاملات کا راستہ ہموار کیا اور پھر ان کوششوں کے ثمرات ونتائج دور فاروقی میں سامنے آئے۔ [1]
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
(( رَأَیْتُنِیْ دَخَلْتُ الْجَنَّۃَ فَإِذَا أَنَا بِالرُّمَیْصَائِ۔ امْرَأَۃِ أَبِیْ طَلْحَۃَ۔ وَسَمِعْتُ خَشْفَۃً فَقُلْتُ: مَنْ ہٰذَا؟ فَقَالَ: ہٰذَا بِلَالٌ۔ وَرَأَیْتُ قَصْرًا بِفِنَائِہٖ جَارِیَۃٌ فَقُلْتُ: لِمَنْ ہٰذَا؟ فَقَالَ: لِعُمَرَ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخُلَہُ فَأَنْظُرَ إِلَیْہِ، فَذَکَرْتُ غَیْرَتَکَ۔ ) ) [2]
''میں نے دیکھا کہ جنت میں داخل ہوا، اچانک میرے سامنے رمیصاء ابوطلحہ کی بیوی نظر آئی اور میں نے ایک آواز سنی تو پوچھا: یہ کون ہے؟ اس (فرشتے) نے کہا: یہ بلال ہیں۔ وہاں میں نے ایک محل دیکھا جس کے آنگن میں ایک عورت تھی۔ میں نے پوچھا: یہ کس کا ہے؟ اس (فرشتے ) نے کہا: یہ عمر کا ہے۔ میں اس میں داخل ہونا چاہتا تھا تاکہ اسے دیکھ لوں، لیکن (اے عمر) تیری غیرت مجھے یاد آگئی۔''
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، کیا میں آپ پر غیرت کھاؤں گا؟
دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(( بَیْنَا أَنَا نَائِمٌ رَأَیْتُنِیْ فِی الْجَنَّۃِ فَإِذَا امْرَأَۃٌ تَوَضَّأُ إِلٰی جَانِبِ قَصْرٍ۔ فَقُلْتُ:
[2] صحیح مسلم، حدیث نمبر: ۲۳۹۳