اس کے بعد ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کو لے کر تنہائی میں گئے اور ہر چیز کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کے لیے آپ کو بہت ساری نصیحتیں کیں اور پھر دین اسلام کی راہ میں اپنی ہر ممکن طاقت لگانے اور کوشش کرنے کے بعد ہر قسم کی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ [1]
آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو یہ وصیتیں کی تھیں:
''اے عمر! اللہ سے ڈرو اور جان لو کہ اللہ کے لیے کچھ کام صرف دن کے ہیں جنہیں وہ رات میں قبول نہیں کرتا، اور کچھ کام رات کے ہیں جنہیں وہ دن میں قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی نفل کو قبول نہیں کرتا جب تک کہ فریضہ کی ادائیگی نہ کی جائے۔ قیامت کے دن ترازو میں جن لوگوں کے نامہ اعمال بھاری ہوں گے وہ محض ان کے اتباع حق کی وجہ سے ہوں گے ، کل وہ پلڑے یقینا بھاری ہوں گے، اور جن لوگوں کے نامہ اعمال ہلکے ہوں گے وہ محض ان کے اتباع باطل کی بنیاد پرہوں گے، کل وہ پلڑے یقینا ہلکے ہوں گے۔ اللہ نے جنت والوں کا ذکر کیا تو ان کے اچھے اعمال کے حوالے سے یاد کیا اور ان کی گستاخیوں کو درگزر کردیا۔ پس جب میں ان کا ذکر کرتا ہوں تو ڈرتا رہتا ہوں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان سے نہ مل سکوں اور اللہ تعالیٰ نے جب جہنم والوں کا ذکر کیا تو ان کا ذکر ان کے بُرے اعمال کے حوالے سے کیا اور اپنی بھلائیوں کو ان پر بند کردیا۔ پس جب میں ان کا ذکر کرتا ہوں تو میں امید لگاتا ہوں کہ اِن لوگوں کے ساتھ نہ رہوں۔ بندہ کو خوف ورغبت کی زندگی گزارنی چاہیے۔ اللہ سے بے جا امیدیں نہ باندھے اور اس کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ اگر تم نے میری وصیت کو محفوظ کیا تو موت کے علاوہ کوئی بھی گمشدہ تیرے نزدیک مبغوض نہ ہوگا۔ اور تو اس کو عاجز نہ کرپائے گا۔'' [2]
ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے فورًا بعد عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خلیفۃ المسلمین کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ [3]
اس مقام پر ایک محقق یہ محسوس کرتا ہے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نامزد کیے جانے کو اس وقت تک شرعی حیثیت حاصل نہ ہوئی جب تک کہ اکثریت کی رضامندی حاصل نہ ہوگئی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے مطالبہ کیا کہ میرے بعد وہ کسی کو اپنا خلیفہ بنانے کے لیے تلاش کرلیں تو لوگوں نے معاملہ آپ پر چھوڑ دیا اور کہا کہ ہماری وہی رائے ہوگی جو آپ کی رائے ہوگی۔ [4]
سیّدناابوبکر رضی اللہ عنہ نے اہم ترین صحابہ سے مشورہ کرنے کے بعد ہی عمر رضی اللہ عنہ کو نامزد کیا تھا، انفرادی طور
[2] مآثر الأنافۃ: ۱/ ۴۹
[3] تاریخ الطبری: ۴/ ۲۴۸
[4] طبقات ابن سعد: ۳/ ۱۹۹۔ تاریخ المدینۃ، ابن شہبۃ: ۲/ ۶۶۵۔ ۶۶۹
[5] طبقات ابن سعد: ۳/ ۲۰۰
[6] دراسات فی عہد النبوۃ والخلافۃ الراشدۃ، الشجاع، ص: ۲۷۲