اور صحیح آثار وروایات سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے خوات بن جبیر رضی اللہ عنہ کے لیے خالی زمین کو الاٹ کیا۔ [1] زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کو ''عقیق'' کی پوری زمین دے دی اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو ''ینبع'' کی زمین دی، اس میں اتفاق سے پانی کا چشمہ پھوٹ نکلا، تو آپ نے اسے فقراء کے حق میں صدقہ کردیا۔ علاوہ ازیں بہت ساری ضعیف روایات ہیں جن میں آپ کی طرف سے دیگر کئی صحابہ کے لیے زمین الاٹ کرنے کا ذکر ہے۔ [2]
[2] الطبقات الکبرٰی: ۳/ ۱۰۴۔ یہ اثر صحیح ہے۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۰۔
[3] التاریخ الصغیر، البخاری: ۱/ ۸۱۔ عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۱۔
[4] عصر الخلافۃ الراشدۃ، ص: ۲۲۱۔ یہ اثر صحیح ہے۔